میٹرو فیس 1 حصول کیلئے حکومت کو 15,000 کروڑ درکارقرض حاصل کرنے کی محدود حد کے باعث مشکلات کا سامنا

   

حیدرآباد ۔27 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے حیدرآباد میٹرو فیس 1 کو ایل این ٹی سے مکمل طور پر اپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ کام حکومت کیلئے اس لئے بھی آسان نہیں کہ ایل این ٹی کو 15,000 کروڑ ادا کرنے ہونگے ۔ میٹرو فیس 1 کے حصول کیلئے 15,000 کروڑ کو فراہم کرنا حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ میٹرو نیٹ ورک کے اثاثہ جات کی مالیت 19 تا 22 ہزار کروڑ ہے۔ ایل این ٹی نے میٹرو ریل فیس 2 پر عمل آوری سے انکار کردیا جس کے بعد حکومت نے فیس 1 پر کنٹرول حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ میٹرو توسیعی منصوبہ کیلئے مرکزی حکومت سے فنڈس کی اپیل کی گئی جس پر وزارت شہری ترقی نے شرط رکھی کہ حکومت فیس 1 ایل این ٹی سے حاصل کریں جس کے بعد توسیعی منصوبہ میں حصہ داری کا مرکز جائزہ لے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کی موجودہ معاشی صورتحال میں 15,000 کروڑ حاصل کرنا حکومت کیلئے آسان نہیں ہے۔ حکومت کیلئے جاریہ سال قرض حاصل کرنے کی جو حد مقرر کی گئی وہ قریب الختم ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے 73 لاکھ کسان کو رعیتو بندھو اسکیم کے تحت 9000 کروڑ کی ادائیگی باقی ہے ۔ حکومت کو 31 مارچ سے قبل میٹرو فیس 1 کو حاصل کرنا ہوگا۔ ایسے میں مزید قرض کیلئے حکومت کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جاریہ مالیاتی سال حکومت نے اوپن مارکٹ سے 70,000 کروڑ کا قرض حاصل کیا جبکہ جاریہ سال قرض حاصل کرنے کی حد 71400 کروڑ ہے۔ مرکزی وزارت فینانس نے 11 فروری تک یہ حد مقرر کی تھی۔1