وعدوں کی تکمیل میں حکومت ناکام، مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا انتظار
حیدرآباد۔ 12 ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس رکن اسمبلی جگاریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر میٹھی باتوں کے ذریعہ عوام کو خوش کررہے ہیں جبکہ حقیقت میں عوام کا کوئی بھلا نہیں ہورہا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگاریڈی نے سوال کیا کہ آخر عوام کب تک کے سی آر کی میٹھی باتوں سے خوش ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دل لبھانے والی باتوں سے وقتی طور پر خوشی ضرور ہوگی لیکن باتوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ جگاریڈی نے کہا کہ دوسری میعاد کا ایک سال مکمل ہوگیا جس کے لیے وہ کے سی آر کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ کے سی آر بہتر صحت کے ساتھ عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔ جگاریڈی نے کہا کہ دوسری میعاد کے ایک سال کی تکمیل پر وہ عوام کی جانب سے حکومت سے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ 2018ء اسمبلی انتخابات کے موقع پر ٹی آر ایس نے کسانوں کو ایک لاکھ روپئے قرض کی معافی، بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3016 روپئے مہنگائی بھتہ، فیس ری ایمبرسمنٹ، میونسپلٹیز اور گرام پنچایتوں کی ترقی کے وعدے کئے تھے لیکن آج تک ان وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی۔ جگاریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کو کرپشن سے پاک ریاست بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن صورتحال اس کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں علاج کی سہولتیں میسر نہیں۔ غریب اور متوسط طبقات کارپوریٹ ہاسپٹلس سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں جہاں بھاری رقومات وصول کی جارہی ہے۔ کانگریس دور حکومت میں آروگیہ شری اسکیم کے ذریعہ غریبوں کا مفت علاج کیا جارہا تھا لیکن کے سی آر نے آروگیہ شری اسکیم کو ختم کردیا۔ اقامتی ہاسٹلس میں طلبہ کے لیے بہتر غذا اور بنیادی سہولتوں کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ دوسری میعاد کے ایک سال کے دوران عوام کی بھلائی کے لیے کیا قدم اٹھائے گئے۔ ایس سی ایس ٹی، بی سی اور اقلیت سے کئے گئے وعدے نظرانداز کردیئے گئے۔ چیف منسٹر نے اپنے انتخابی حلقہ گجویل کی ترقی پر توجہ مبذول کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں چیف منسٹر ان کے فرزند، بیٹی اور بھانجہ کے علاقوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں جبکہ دیگر اسمبلی حلقہ جات کو نظرانداز کردیا گیا۔ مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات کانگریس دور حکومت میں فراہم کی ہے۔ کے سی آر نے مسلمانوں اور ایس ٹی طبقے کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن گزشتہ چھ برسوں میں اس بارے میں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جگاریڈی نے کہا کہ غریب عوام اپنے مسائل چیف منسٹر سے رجوع کرنے سے محروم ہیں کیوں کہ کے سی آر نے پرجا دربار سسٹم کو ختم کردیا ہے۔ چیف منسٹر کے پاس عوامی مسائل کی سماعت کے لیے وقت نہیں ہے۔ گزشتہ چھ برسوں میں انہوں نے عوامی سماعت کے بجائے خود کو پراگتی بھون تک محدود کردیا۔ جگاریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں 1200 سرکاری اسکولوں کو بند کیا جارہا ہے جبکہ خواندگی کے معاملے میں تلنگانہ ملک میں 13 ویں مقام پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبہ جات کو نظرانداز کردیا گیا۔ جگاریڈی نے کہا کہ کانگریس عوامی مسائل پر سیاست کرنے کے بجائے عوام کی جانب سے مسائل کی یکسوئی کے لیے جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ کم از کم دوسری میعاد کے ایک سال کے بعد اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوامی مسائل کی یکسوئی اور وعدوں کی تکمیل پر توجہ دیں۔