کرنول کے تاجر شیخ شاہ ولی سے عنقریب ملاقات کا اعلان
حیدرآباد۔ 15 فروری (سیاست نیوز) آندھرا پردیش کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نارا لوکیش نے تلنگانہ کی میڈارم جاترا کے دوران کرنول سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم تاجر کو فرقہ پرست عناصر اور بعض یو ٹیوبرس کی جانب سے ہراساں کرنے کے واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نارا لوکیش نے کرنول سے تعلق رکھنے والے شیخ شاہ ولی کی جانب سے ’’کھووا بن‘‘ کی فروخت پر بعض گوشوں کی جانب سے کئے گئے اعتراض کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی ولی اور ان کے افراد خاندان سے ملاقات کریں گے اور وہ ان کی جانب سے تیار کئے جانے والے کھووا بن کا لطف لینے کے لئے بے چین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد کی جانب سے ولی کے خلاف الزام تراشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے سماج میں نفرت کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ سوشیل میڈیا میں ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوا جس میں میڈارم جاترا کے دوران کھووا بن فروخت کرنے والے کرنول کے تاجر شیخ شاہ ولی کو تیجسوی نیوز چیانل کے رپورٹر اور دیگر افراد کی جانب سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ کھووا بن کی فروخت سے عوام کی صحت کو نقصان کا دعویٰ کرتے ہوئے ایکسپائری ڈیٹ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ یہ بن بروقت تیار کرتے ہوئے فروخت کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کو طلب کرتے ہوئے شیخ شاہ ولی کو گرفتار کرانے کی کوشش کی گئی۔ مسلم تاجر نے بن میں استعمال کی جانے والی اشیاء کی تفصیلات سے واقف کرایا اور کہا کہ کھووا بن صحت کے اعتبار سے نقصاندہ نہیں ہے۔ یہ بن 10 روپے میں فروخت کیا جارہا تھا جبکہ دیگر دکانات پر اس کی قیمت 100 روپے ہے۔ شرپسندوں نے شیخ شاہ ولی سے شناخت ظاہر کرنے کے لئے آدھار کارڈ طلب کیا۔ شرپسندوں کا کہنا تھا کہ یہ بن بچوں کے لئے خاص طور پر نقصاندہ ہے۔ ہراسانی کا ویڈیو تیزی سے شوشیل میڈیا میں وائرل ہوا جس پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کے فرزند اور ریاستی وزیر نارا لوکیش نے واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بہت جلد شیخ شاہ ولی سے ملاقات کا ارادہ ظاہر کیا۔ 1