گورنر نے وائس چانسلر کو طلب کیا، عنقریب رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد: تلنگانہ میں میڈیسن کی نشستوں پر داخلہ کے موقع پر مقامی امیدواروں کے ساتھ ناانصافی کے سلسلہ میں گورنر ٹی سوندرا راجن نے کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنسیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ گورنر نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر بی کروناکر ریڈی کو راج بھون طلب کرتے ہوئے اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا ۔ تلنگانہ کے بجائے آندھرا سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو نشستوں کے الاٹمنٹ پر تنازعہ پیدا ہوچکا ہے ۔ گورنر نے داخلوں کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور وائس چانسلر کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ گورنر نے وائس چانسلر کو ہدایت دی کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے میرٹ امیدواروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی جانب سے گورنر کو کئی نمائندگیاں موصول ہوئیں۔ قبل ازیں گورنر نے ٹوئیٹر پر اس معاملہ میں وائس چانسلر سے وضاحت طلب کرنے کی اطلاع دی ہے۔ اسی دوران گورنر سے وائس چانسلر کی ملاقات کے باوجود تلنگانہ کے طلبہ کو انصاف کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ یونیورسٹی کے حکام داخلوں کے طریقہ کار کو درست قرار دے رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ داخلوں کے معاملہ میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ گاندھی اور عثمانیہ میڈیکل کالجس میں آندھراء طلبہ کو داخلہ دیئے جانے پر مقامی طلبہ نے اعتراض کیا ہے۔ گورنر بحیثیت چانسلر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو طلب کرسکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر نے گورنر کو داخلوں کے طریقہ کار سے واقف کرایا اور کہا کہ آندھرائی طلبہ کے داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہے اور تلنگانہ سے ناانصافی کی باتیں درست نہیں ہے۔ گورنر وائس چانسلر سے رپورٹ طلب کرنے کے بعد اس مسئلہ پر حکومت کو مکتوب روانہ کریں گی۔