میڈیکل جانچ کیلئے وجین کے امریکہ جانے بی جے پی کی تنقید

   

ترواننت پورم۔ 5جولائی (یو این آئی) کیرالا بی جے پی کے ریاستی صدر راجیو چندر شیکھر نے ہفتہ کو وزیر اعلی پنارائی وجین پر میڈیکل جانچ کیلئے امریکہ جانے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کے اس قدم سے حکومت کے مشہور ’کیرل ماڈل‘ کا کھوکھلا پن سب کے سامنے آگیا ہے ۔ چندر شیکھر نے کہا کہ جب وزیر اعلی وجین کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بیرون ملک علاج کرانے چلے جاتے ہیں، جبکہ عام شہریوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔واضح رہے کہ وزیر اعلی وجین میڈیکل جانچ کیلئے آج امریکہ روانہ ہونے والے ہیں۔ وزیر اعلی کے دفتر نے کہا کہ جانچ اور علاج مکمل ہونے میں 10 دنوں کا وقت لگے گا۔ کیرالا بی جے پی صدر نے کہا کہ ریاست کا طبی نظام درہم برہم ہے ۔ سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں ہونے والے واقعات اس نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی کمی اور کوٹائم میڈیکل کالج میں عمارت گرنے سے ایک خاتون کی حالیہ موت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ ریاستی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سرکاری اسپتال غریبوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کیلئے مناسب طریقۂ کار اپنا ر ہے ہیں۔ کیرالا بی جے پی کے صدر نے کہا کہ مودی حکومت نے 2019 اور 2025کے درمیان نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت کیرالا کو تقریباً 7,000 کروڑ روپے اور خصوصی پروگرام عمل آوری اسکیم کے تحت اضافی 62,000کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بڑے پیمانے پر حمایت کے باوجود ریاست کے لوگ طبی نظام کی ابتر حالت سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترواننت پورم اور کوٹیم میڈیکل کالجوں میں حالیہ واقعات اس ناکامی کی واضح مثالیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وزیراعلی وجین، کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی جیسے لیڈروں کو طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ علاج کے لئے امریکہ یا یورپ جاتے ہیں۔