میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ٹرمپ کس قسم کے آدمی ہیں : کملا ہیریس

   

l نومبر میں منعقد شدنی انتخابات کی مہم کا عملاً آغازl ماضی میں بحیثیت چیف پراسیکیوٹر میں ہر قسم کے مجرموں سے نمٹ چکی ہوں

l ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی ہیریس کی حمایت کی

واشنگٹن: ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ صدارتی امیدوار کملاہیریس نے پیر کو اپنی انتخابی مہم کا آغاز ڈونالڈ ٹرمپ پر ذاتی حملے کے ساتھ کیا اور صدر جو بائیڈن کی اچانک دستبرداری کے باوجود نومبر میں صدارتی انتخابات جیتنے کا عزم کیا۔صدر جو بائیڈن کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی خواہشمند کملاہیریس نے الیکشن میں ڈیموکریٹس کی جیت کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کملاہیریس نے مہم کے کارکنوں سے ولیمنگٹن کے ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نومبر میں جیتنے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ چند دنوں میں ’رولر کوسٹر‘ جیسی صورت حال کے بعد پارٹی کارکنوں سے ذاتی طور پر خطاب کرنے کے لیے ولیمنگٹن پہنچی ہیں۔ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کملا ہیریس نے کیلیفورنیا کے چیف پراسیکیوٹر کے طور پر اپنے ماضی کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’ہر قسم کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’میرا سب سے واسطہ پڑا ہے جن میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے شکاری، دھوکے باز جنہوں نے صارفین کو دھوکا دیا اور وہ جنہوں نے اپنے فائدے کے لیے قوانین کو توڑا۔ تو میں جانتی ہوں کہ ڈونالڈ ٹرمپ کس قسم کے آدمی ہیں۔‘ہیریس نے اسقاط حمل قوانین میں اصلاحات کا بھی وعدہ کیا۔ کملاہیریس کا کہنا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جن کو عدالت سے سزا ہوئی۔بائیڈن کی جگہ لینے کے لیے انڈین نژاد کملاہیریس پہلا انتخاب ہیں جن کی حمایت کا اعلان بائیڈن نے اتوار کو اپنی دستبرداری کے بعد کیا تھا۔اگر وہ پانچ نومبر کو منتخب ہو جاتی ہیں تو وہ پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام خاتون امریکی صدر کے طور پر نئی تاریخ رقم کر دیں گی۔دوسری طرف انتخابات سے متعلق مہم کے ذرائع نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ نائب صدر کملاہیریس نے پیر کی رات ڈیموکریٹک صدارتی نامزدگی کے لیے درکار مندوبین کی تعداد کو پیچھے چھوڑتے ہوئے زیادہ کی حمایت حاصل کر لی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہیرس کے پاس 2214 مندوبین تھے، جو پہلے بیلٹ پر نامزدگی حاصل کرنے کے لیے درکار سادہ اکثریت سے بھی زیادہ تھے۔‘اے پی نے کہا کہ سروے غیر سرکاری ہے، کیونکہ جب پارٹی باضابطہ طور پر اپنے امیدوار کا انتخاب کرتی ہے تو ڈیموکریٹک مندوبین اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔دریں اثناء امریکی ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر اور ڈیموکریٹک رہ نْما نینسی پیلوسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ نائب صدر کملا ہیریس کی حمایت کرتی ہیں کہ وہ صدر جو بائیڈن کی جگہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کے طور پر اپنی دوبارہ انتخابی مہم شروع کریں۔ پیر کو پیلوسی نے ایک بیان میں کہا کہ آج ہمارے ملک کے مستقبل کیلئے بڑے فخر اور بے پناہ امید کے ساتھ میں نائب صدر کملاہیریس کی صدر کے امیدوار کیلئے تائید کرتی ہوں۔
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق پیلوسی نے اتوار کے روز بائیڈن کے صدارتی الیکشن کی دوڑ سے دست برداری کے اعلان تک ان کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔گذشتہ ماہ بائیڈن کے ناکام مباحثے اور ٹرمپ کے مقابلے میں خراب کارکردگی کے بعد انہوں نے ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹک ارکان کے خدشات کو وائٹ ہاؤس تک پہنچانے کے لیے پردے کے پیچھے کام کیا۔
پیلوسی نے اتوار کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں بائیڈن کے دستبردار ہونے کے فیصلے کی تعریف کی، لیکن انہوں نے اس میں ہیریس کا ذکر نہیں کیا تھا۔بائیڈن نے انتخابات میں اپنی جانشین کے طور پر کملاہیریس کا نام تجویز کیا تھا۔بائیڈن کی دستبرداری کے بعد سے ایوان نمائندگان کے 150 سے زیادہ ڈیموکریٹک ارکان نے ہیرس کی حمایت کی ہے۔