مکردوار پر قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی کتاب کی کاپی دکھاتے ہوئے میڈیا سے بات چیت
نئی دہلی، 4 فروری (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ جس کتاب کے اقتباسات پڑھنے سے انہیں پارلیمنٹ میں یہ کہہ کر روکا جا رہا ہے کہ یہ کتاب چھپی ہی نہیں ہے ، آج وہ کتاب ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسے وزیراعظم نریندر مودی کو تحفے میں دینا چاہیں گے ۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں لوک سبھا سے معطل آٹھ کانگریس ارکانِ پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار پر دھرنے پر بیٹھنے کے بعد چہارشنبہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس کتاب میں لکھے گئے حصوں کا وہ لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران ذکر کرنا چاہتے ہیں، حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ حقائق غیر مستند ہیں اور کتاب شائع ہی نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے صحافیوں کو کتاب کی کاپی دکھاتے ہوئے سوال کیا کہ کس بنیاد پر حکومت کے سینئر وزراء کہہ رہے ہیں کہ کتاب چھپی ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پر بھی اس حوالے سے ایک پوسٹ میں کہا کہ آج اگر وزیراعظم پارلیمنٹ میں آتے ہیں، تو میں انہیں ایک کتاب تحفے میں دوں گا۔ یہ کتاب کسی اپوزیشن لیڈر کی نہیں ہے ۔ یہ کتاب کسی غیر ملکی مصنف کی نہیں ہے ۔ یہ کتاب ملک کے سابق آرمی چیف جنرل نروانے کی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کتاب کابینی وزراء کے مطابق وجود ہی نہیں رکھتی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ اس کتاب میں صاف لکھا ہے کہ جب چینی فوج ہماری سرحد میں داخل ہو گئی تھی، ایسی نازک گھڑی میں آرمی چیف کو انتظار کروایا گیا اور جب فیصلہ لینے کا وقت آیا، تو وزیراعظم نے بس اتنا کہا کہ جو آپ کو مناسب لگے ، وہ کیجیے ۔ یعنی ملک کی سلامتی کے سنگین ترین بحران میں، مودی نے سیاسی ذمہ داری سے ہاتھ کھڑے کر لیے ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل نروانے خود لکھتے ہیں کہ اس وقت انہیں محسوس ہوا کہ سیاسی قیادت نے فوج کو اکیلا چھوڑ دیا۔ یہی وہ سچائی ہے جسے بولنے سے انہیں پارلیمنٹ میں روکا جا رہا ہے ۔ ملک سوال پوچھ رہا ہے اور حکومت جواب دینے سے بھاگ رہی ہے ۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی بعد میں راہول گاندھی کے ہاتھ میں موجود شائع شدہ کتاب کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ یہ سابق فوجی چیف نروانے جی کی کتاب ہے۔
حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ کتاب ہے ہی نہیں اور آپ اس کا حوالہ نہیں دے سکتے ۔ اس میں نروانے جی نے لکھا ہے کہ لداخ میں چین کی فوج ہمارے علاقے میں داخل ہو رہی تھی۔فوجی چیف نے راج ناتھ جی سے پوچھا کہ کیا کرنا ہے ۔ پہلے کوئی جواب نہیں دیا۔ بار بار فون کرنے پر نریندر مودی جی نے پیغام دیا کہ ‘جو مناسب سمجھو وہ کرو’۔ اس کا مطلب ہے کہ مودی جی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ مسٹر مودی کی یہ سچائی ملک کو معلوم ہونی چاہیے ۔”