حکومت کی تشکیل میں نئے حلقوں کا اہم رول ہوگا۔ ہر اسمبلی حلقہ میں تقریباً 1.93 لاکھ آبادی ہوگی
حیدرآباد 27 مارچ (سیاست نیوز) آئندہ انتخابات سے قبل ریاست تلنگانہ میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل تیز ہونے جارہا ہے۔ خاص طور پر حیدرآباد اور اس سے متصل اضلاع میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں جہاں 22 نئے اسمبلی حلقے تشکیل دیئے جائیں گے۔ مرکزی حکومت نے 2011ء کی مردم شماری کی بنیاد پر اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی ازسرنو تقسیم کے ساتھ ساتھ نشستوں میں 50 فیصد اضافہ کی منظوری دی ہے۔ جس کے بعد ریاست میں موجودہ 119 اسمبلی حلقوں کی تعداد بڑھ کر 183 ہونے کا امکان ہے۔ آبادی کے تناسب سے حیدرآباد اور اطراف کے اضلاع میں نئے اسمبلی حلقے بنائے جارہے ہیں۔ حیدرآباد ضلع کی آبادی تقریباً 39.43 لاکھ ہونے کے باعث یہاں اسمبلی نشستوں کی تعداد 15 سے بڑھ کر 20 ہونے کا امکان ہے۔ یعنی پانچ نئے اسمبلی حلقوں کے اضافہ کا امکان ہے۔ ضلع رنگاریڈی کی آبادی تقریباً 24.46 لاکھ ہے جس کے مطابق وہاں موجود 8 اسمبلی حلقوں کے علاوہ مزید پانچ اسمبلی حلقے تشکیل دیئے جاسکتے ہیں۔ جس کے بعد جملہ اسمبلی حلقوں کی تعداد 13 تک پہونچ سکتی ہے۔ اس طرح ضلع میڑچل میں آبادی کے تناسب سے تقریباً 13 اسمبلی حلقے متوقع ہے۔ جبکہ ضلع وقارآباد میں ایک اور ضلع سنگاریڈی میں 3 نئے حلقوں کا اضافہ ممکن ہے۔ ریاست میں مجوزہ طور پر 63 نئے اسمبلی حلقوں میں 22 حلقے صرف حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں تشکیل دیئے جائیں گے۔ یعنی ایک تہائی سے زیادہ حصہ اسی خطے کو ملے گا۔ اس عمل میں جی ایچ ایم سی کی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی حد بندی کی جائے گی تاکہ شہری توازن برقرار رہے اور انتظامی سہولت میں بہتری آئے۔ نئی حد بندی کے تحت شہری پھیلاؤ اور ترقی یافتہ علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنجارہ ہلز، گچی باؤلی، میاں پور، حمایت نگر، شمس آباد، چندا نگر، نارسنگی، باچوپلی، کاپرا، بوڈ اپل، کیسرا اور بالا نگر (آئی ڈی پی ایل) جیسے علاقوں کے نام پر نئے اسمبلی حلقے تشکیل دیئے جاسکتے ہیں۔ تاہم اس عمل میں جغرافیائی قربت، آبادی اور موجودہ سیاسی و انتظامی عوامل کو بھی اہمیت دی جائے گی تاکہ قریبی علاقوں کو غیر ضروری طور پر تقسیم نہ کیا جائے۔ اس نئی حد بندی سے نہ صرف نئے لیڈروں کو اُبھرنے کا موقع ملے گا بلکہ شہری علاقوں کی نمائندگی بھی مزید مضبوط ہوگی اور ریاست کی انتخابی سیاست میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ریاست کی مجموعی آبادی تقریباً 3.52 کروڑ ہے جبکہ ایک اسمبلی حلقہ کی اوسط آبادی تقریباً 1.93 لاکھ مانی جارہی ہے۔ اسی بنیاد پر نئی حلقہ بندی کی جارہی ہے۔2