نئی ٹکنالوجی کے مکان مضبوط اور پُرکشش: مودی

   

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ نئی ٹیکنالوجی سے بنائے جانے والے مکان نہ صرف جلد تیار ہوتے ہیں بلکہ یہ مضبوط بھی ہوتے ہیں۔ مسٹر مودی نے آل انڈیا ریڈیو پر ‘من کی بات’ پروگرام میں کہا کہ آئی آئی ٹی مدراس کے الومنائی کی جانب سے قائم ایک اسٹارٹ اپ نے ایک 3ڈی پرنٹیڈ ہاؤس بنایا ہے ۔ 3ڈی پرنٹنگ کرکے گھر کی تعمیر، آخر یہ ہوا کیسے ؟ ۔دراصل اس اسٹارٹ اپ نے سب سے پہلے 3ڈی پرنٹر میں ایک، 3 ڈائیمینشنل ڈیزائن کو فیڈ کیا اور پھر ایک مخصوص قسم کے کنکریٹ کے ذریعے سے لیئر بائی لیئر ایک 3ڈی اسٹرکچر فیبریکیٹ کر دیا۔ پورے ملک میں اس طرح کے کئی تجربے ہو رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب چھوٹے چھوٹے تعمیراتی کام میں برسوں لگ جاتے تھے لیکن آج ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہندوستان میں صورتحال بدل رہی ہے ۔ کچھ وقت پہلے پوری دنیا کی ایسی کمپنیوں کو مدعو کرنے کے لیے ایک گلوبل ہاؤسنگ ٹیکنالوجی چیلنج لانچ کیا تھا۔ یہ ملک میں اپنی طرح کی انوکھی کوشش ہے لہٰذا انھیں لائٹ ہاؤس پروجیکٹ نام دیاگیا۔ فی الحال ملک میں 6 مختلف مقامات پر اس پر تیزی سے کام چل رہا ہے ۔ اس سے تعمیر کا وقت کم ہو جا تا ہے ۔ ساتھ ہی جو گھر بنتے ہیں وہ زیادہ مضبوط، کفایتی اور آرام دہ ہوتے ہیں۔ اندور کے پروجیکٹ میں اینٹ اور مورٹار والس کی جگہ پرفیبریکیٹیڈ سَینڈوِچ پینل سسٹم کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ راجکوٹ میں لائٹ ہاؤس فرنچ ٹیکنالوجی سے بنائے جا رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے بنے گھر آفات کا سامنا کرنے میں کہیں زیادہ اہل ہوں گے ۔ چنئی میں، امریکہ اور فن لینڈ کی ٹیکنالوجی، پری کاسٹ کنکریٹ سسٹم کا استعمال کرکے گھر بنائے جائیں گے ۔ اس میں ہر کمرے کو الگ سے بنایا جائے گا۔ پھر پورے ڈھانچے کو اسی طرح جوڑا جائے گا’ جیسے بلاک ٹوئیز کو جوڑا جاتا ہے ۔ اگرتلہ میں نیوزی لینڈ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے اسٹیل فریم کے ساتھ مکان بنائے جا رہے ہیں۔ جو بڑے زلزلے کو جھیل سکتے ہیں۔