نئے امریکی امیگریشن قواعد، غیر ملکی شہریوں کے بچوں کیلئے مشکلات؟

   

واشنگٹن ۔31؍اگست (ایجنسیز ) امریکہ میں امیگریشن کی نئی پابندیوں سے گرین کارڈز کیلئے درخواست دینے والے غیرملکی شہری اور اْن کے بچے اب مزید مشکلات کا شکار ہوں گے خاص طور پر وہ نوجوان جو اس عمل کے دوران 21 برس کی عمر کی حد کو پہنچیں گے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گرین کارڈ یا قانونی مستقل رہائشی حیثیت کیلئے درخواست دینے والے غیرملکی شہریوں کے بچوں کو امریکہ میں نئی امیگریشن پابندیوں کے تحت نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے والدین کیلئے بنائی گئی نئی درخواست کے مطابق اْن کے بچے امیگریشن کے حقدار نہیں ہیں اگر وہ 21 سال کی عمر کو پہنچ جائیں اور ابھی امیگریشن کا عمل جاری ہو۔والدین گرین کارڈ کیلئے اپنے ساتھ بچوں کی درخواست اْسی وقت دیتے ہیں جب ان کے بچوں کی عمر 21 سال سے کم ہوتی ہے۔ نئی پالیسی میں تبدیلی ان بچوں کو متاثر کرے گی جو 21 سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں۔فینانشل ٹائمز کے مطابق امریکی امیگریشن فنڈ کے صدر نکولس مستروئینی کا کہنا ہے کہ حقیقت میں پالیسی میں تبدیلی کے نتیجے میں زیادہ بچے اپنے والدین کے گرین کارڈ ویزا کی درخواست سے منسلک رہنے کا استحقاق کھو دیں گے کیونکہ امریکی امیگریشن سسٹم کے تحت عمر کا حساب لگاتا ہے۔تازہ ترین ہدایت 15 اگست 2025 کو یا اس کے بعد جمع کرائی گئی درخواستوں پر لاگو ہوتی ہے۔ تاہم امریکی شہریت و امیگریشن سروسز عمر کے حساب کتاب کے رہنما قواعد کا استعمال کرے گا جو 14 فروری 2023 کو نافذ کیا گیا تھا۔عام فہم اور آسان الفاظ میں نئی امریکی پالیسی کے تحت کسی بھی غیرشادی شدہ فرد کو امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کیلئے قانونی طور پر 21 سال سے کم عمر ہونا لازم ہے۔ ایسے تمام افراد کو اْن کے والدین کی جانب سے اپنی درخواست کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے جو ورک ویزا یا فیملی ا سپانسر ویزے کیلئے اپلائی کرتے ہیں۔نئی پالیسی سے ہندوستان اور پاکستان کے وہ شہری بھی متاثر ہوں گے جو خاندان کے ہمراہ امریکی ویزے کی درخواست دیتے ہیں اور ورک ویزا یا فیملی ا سپانسر ویزے اور امیگریشن کیلئے اپلائی کرتے ہیں۔