پی ایف میں ڈھائی لاکھ روپئے کی حد پار ہونے پر پیسے نکالتے وقت ٹیکس ادا کرنا ہوگا
حیدرآباد : مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن کے پیش کردہ بجٹ میں اُجرت کے نئے قواعد سے تنخواہ یاب ملازمین کو بہت بڑا دھکا لگا ہے۔ بجٹ میں پراویڈنٹ فنڈ (پی ایف) سے متعلق نرملا سیتارامن کی متعارف کردہ پالیسی ریٹائرمنٹ فنڈ میں کٹوتی کرنے جارہی ہے۔ نئے قانون کے مطابق پی ایف میں سالانہ صرف ڈھائی لاکھ روپئے کے ٹیکس فری ریٹرن دستیاب ہوں گے۔ اس حد سے تجاوز کرنے والے ریٹرن پر ٹیکس قابل ادائیگی ہوگی۔ ابھی تک ٹیکس فری ریٹرن حاصل کرنے کے لئے پی ایف کی کوئی حد نہیں تھی۔ گزشتہ سال کے بجٹ میں ساڑھے سات لاکھ روپئے کی حد نافذ کی گئی تھی۔ اس سال اس کی حد ڈھائی لاکھ روپئے کردی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ملاز پی ایف میں سالانہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرتا ہے تو پیسے نکالتے وقت اس کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ بجٹ کے علاوہ اجرت کے نئے قواعد کے باعث اپریل سے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کمی کی جائے گی۔ اُجرت کے نئے قواعد کے مطابق کمپنیوں کو اپنے تنخواہوں کے پیاکیج کو بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔ اس کے مطابق الاؤنسیس آپ کی مجموعی تنخواہ کا 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیسک تنخواہ کل تنخواہ کا 50 فیصد ہونا چاہئے۔ اس حساب سے ملازمین کی بیسک ادائیگی (پے) بڑھتی ہے۔ اس کی مناسبت سے گریجویٹی اور پراویڈنٹ کو بھی زیادہ ادا کرنا ہوگا۔ اس سے ہر ماہ حاصل ہونے والی تنخواہ میں بھی کمی ہوگی۔ فی الحال زیادہ تر کمپنیاں 50 فیصد سے زیادہ الاؤنسیس ادا کررہی ہیں۔ اگر اُجرت کے نئے قواعد و ضوابط نافذ ہوجائیں تو یہ صورتحال موجود نہیں رہے گی۔ ان نئے قواعد سے خانگی شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین پر زیادہ اثر پڑے گا۔ عام طور پر ملازمین کو خانگی شعبوں سے زیادہ الاؤنسیس ملتے ہیں۔