محکمہ سیول سپلائز کے افسران کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں ، غریب عوام کو مشکلات
حیدرآباد ۔ 22 اکٹوبر ( سیاست نیوز) جدید راشن کارڈس کی اجرائی میں تاحال مزید تاخیر کی جارہی ہے ۔ ہر گوشے سے شدید تنقیدوں کے باوجو د محکمہ سیول سپلائیز کے افسران کے رویہ میں تبدیلی نہیں آرہی ہے ۔ ایک دو نہیں بلکہ 50% درخواستوں کی عدم یکسوئی سے پتہ چلتا ہے کہ حالات اور افسران کی کارکردگی کس حد تک غیر اطمینان بخش ہے جبکہ ماضی میں نااہل قرار دیتے ہوئے بے شمار کارڈ ہولڈرس کے راشن کارڈس کو خارج کردیا گیا اور جدید راشن کارڈس کیلئے درخواستیں داخل کرنے کا موقع نہ دینے کی وجہ سے احتجاج کا بھی سامنا کرنا پڑا اور احتجاج کو دیکھتے ہوئے می سیوا سنٹرس کے ذریعہ جدید راشن کارڈس کیلئے درخواستیں قبول کرنے کا اعلان کیا تھا اور کافی طویل عرصہ کے بعد ادخال درخواست برائے راشن کارڈس کا موقع فراہم کرنے پر لاکھوں درخواستیں داخل کی جارہی ہیں جن میں ایسے راشن کارڈ ہولڈرس بھی ہیں جو اپنے موجودہ کارڈس میں اپنے مزید افراد خاندان کے ناموں کی شمولیت کیلئے درخواستیں داخل کررہے ہیں اور بعض لوگ جدید راشن کارڈس کی اجرائی کیلئے درخواستیں داخل کررہے ہیں ۔ اس کے باوجود راشن کارڈس کی منظوری میں سیول سپلائی افسران غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان درخواستوں کی یکسوئی کئے بغیر انہیں برف دان کی نذر کر رکھے ہیں ۔ عہدیداران کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے بہ آسانی ہوتا ہے کہ صرف ضلع حیدرآباد کی حدود میں 1.43لاکھ درخواستیں داخل کی جانے پر ان میں سے صرف 73ہزار درخواستوں کی ہی یکسوئی یا منظوری دی گئی ہے اور مابقی درخواستوں کو ایک طویل عرصہ سے زیرالتواء رکھا گیا ہے ۔ قانون کے مطابق فوڈ انسپکٹرس کی ذمہ داری ہے کہ وہ باقاعدہ تحقیقات کر کے اس بات کا فیصلہ کرے کہ درخواست گذار واقعی اہل ہے یا نہیں اور فوڈ انسپکٹر کی رپورٹ کی بنیاد پر اعلیٰ افسران کارڈس کی اجرائی کا فیصلہ کرتے ہیں مگر فوڈ انسپکٹرس اپنی تحقیقاتی رپورٹس کو آن لائن نہیں کررہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے باوجود درخواستوں کو منظوری کیلئے روانہ نہیں کررہے ہیں اور اس معاملہ میں فوڈ انسپکٹرس کا کہنا ہے کہ اعلیٰ افسران کی ہدایت پر ہی ایسا کیا جارہا ہے ، حالانکہ غریب درخواست گذار حصول راشن کارڈس کیلئے روزانہ سیول سپلائی دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔ الغرض ان حالات سے پریشان حال درخواست گذاروں نے حکومت اور اعلیٰ افسران سے خواہش کی ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں راشن کارڈس کی اجرائی کے ذریعہ انہیں بھوکے مرنے سے بچایا جائے ۔