مارچ میں اعلامیہ کی اجرائی، بے روزگار نوجوانوں میں بے چینی دور کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔/26 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں گزشتہ 7 برسوں سے سرکاری محکمہ جات میں تقررات کا انتظار کرنے والے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو مزید انتظار کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حکومت نے نئے سال کے آغاز پر 50 ہزار مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی پبلک سرویس کمیشن مخلوعہ جائیدادوں کی مرحلہ وار بھرتی کیلئے اعلامیہ جاری کرے گا۔ سرکاری ملازمین کے جاریہ تبادلوں اور تقسیم کے عمل کی تکمیل کے بعد ضلع واری سطح پر مخلوعہ جائیدادوں کی حقیقی تعداد کا پتہ چلے گا۔ حکومت نئے زونل سسٹم کے تحت مقامی ہونے کی بنیاد پر ملازمین کے تبادلے کررہی ہے۔ امید ہے کہ 10 جنوری تک مخلوعہ جائیدادوں کی حقیقی تعداد کا حکومت کو اندازہ ہوجائے گا جس کے مطابق اعلامیہ کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ ریاست میں اکٹوبر 2016 میں تقررات کے اعلامیہ کی اجرائی کو اس وقت روک دیا گیا تھا جب اضلاع کی تعداد 10 سے بڑھا کر 31 کی گئی جس کے بعد نئے زونل سسٹم کو متعارف کیا گیا۔ حکومت نے تمام اضلاع اور زون میں 95 فیصد جائیدادیں مقامی امیدواروں کیلئے مختص کی ہیں۔ مئی 2018 میں حکومت نے 31 اضلاع، 7 زون اور 2 ملٹی زون کی تجویز منظوری کیلئے مرکز کو روانہ کی تھی اور اگسٹ 2018 میں مرکز کی منظوری حاصل ہوئی۔ ڈسمبر 2018 میں اسمبلی انتخابات کے سبب تقررات کا عمل روک دیا گیا۔ 2019 میں حکومت نے مزید 2 اضلاع کا اضافہ کرتے ہوئے اضلاع کی تعداد 33 کردی ہے۔ اپریل 2021 تک مرکز کی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تقررات میں تاخیر کی کئی وجوہات ہیں جن میں ضمنی انتخابات اور پبلک سرویس کمیشن کی عدم تشکیل شامل ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ڈسمبر 2020 میں 50 ہزار مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کیا تھا تاہم حال ہی میں انہوں نے مخلوعہ جائیدادوں کی تعداد 80 ہزار بتائی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت مارچ میں اعلامیہ جاری کرے گی اور نئے مالیاتی سال اپریل 2022-23 سے تقررات کا آغاز ہوگا۔ واضح رہے کہ بیروزگار نوجوانوں کی تنظیموں کے علاوہ سیاسی جماعتیں تقررات کے مسئلہ پر احتجاج کررہی ہیں۔ر