عام مقامات پر اسکریننگ ٹسٹ ، ماسک اور سماجی فاصلہ پر لازمی عمل آوری ، ریاستی حکومت کے احکامات
حیدرآباد ۔ 25 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : اومی کرون کے خوف اور ہائی کورٹ احکامات کی روشنی میں تلنگانہ حکومت نے ریاست میں 2 جنوری تک ریالیوں ، جلسہ اور ایک ہی مقام پر ہجوم جمع ہونے پر امتناعی احکامات جاری کرکے سختی سے عمل کرنے کی کلکٹرس کو ہدایت دی ۔ ملک بھر میں کورونا کی نئی شکل اومی کرون کیسوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے تاحال دو مرتبہ الرٹ جاری کرکے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظامیہ علاقوں میں ضرورت کے مطابق نائیٹ کرفیو اور دیگر تحدیدات پر سختی سے عمل کی ہدایت دی ہے ۔ جس پر ملک کی مختلف ریاستوں میں نائیٹ کرفیو کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ تلنگانہ میں بھی اومی کرون کیسوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے تحدیدات عائد کرنے کی تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی تھی ۔ تلنگانہ کے محکمہ صحت نے ریاست میں اومی کرون کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو رپورٹ پیش کی جس کے بعد حکومت نے تحدیدات کے احکامات جاری کردئیے ۔ جس میں نئے سال کے جشن پر بھی امتناع عائد ہے ۔ مگر اس کی علحدہ سے وضاحت کرنے کے بجائے عوام کے ہجوم کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کی پابندی کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ اس سے واضح ہوگیا کہ نئے سال کی پارٹیوں کا انعقاد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ حکومت کے جاری کردہ احکامات میں ماسک کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ سماجی دوری کی برقراری پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ عوامی مقامات ( پبلک پلیس ) پر تھرمل اسکریننگ ٹرسٹ لازمی طور پر کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ اس معاملے میں کلکٹرس کو خصوصی اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ چیف سکریٹری سومیش کمار نے احکامات جاری کئے ۔ کہا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر ماسک نہ لگانے پر جرمانہ عائد کرنے کے سابقہ احکام پر سختی سے عمل آوری کی جائے گی ۔ تمام ضلع کلکٹرس اور پولیس کمشنران و سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ ان احکام پر سختی سے عمل آوری کو یقیبنی بنائیں۔ کورونا کی نئی شکل اومی کرون ویرینٹ کے تیزی سے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ملک کی مختلف ریاستوں میں تحدیدات اور رات کا کرفیو نافذ کیا گیا ہے ۔ تقاریب میںشرکت کرنے والوں کی تعداد پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ تاہم تلنگانہ میں ایسے اقدامات سے گریز کرتے ہوئے جلسوں و ریالیوں پر 2 جنوری تک پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ن