نئے فوجداری قوانین مجاہدین آزادی کو خراج ، صدر مرمو کا تاثر

,

   

وزیراعظم مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی کارگذاری کا تذکرہ، تمام شہریوں سے جوش و خروش کے اظہار کی اپیل

نئی دہلی : صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر آج شام قوم سے خطاب کیا جسے سوشل میڈیا کے تمام سرکاری ذرائع ابلاغ اور ٹی وی چینلس پر براہ راست نشر کیا گیا۔ ’’میں آپ سبھی کو یوم آزادی کی دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں‘‘۔ صدر مرمو نے خصوصیت سے نئے فوجداری قوانین کے بارے میں اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین مجاہدین آزادی کو خراج کے مترادف ہیں۔ آکاشوانی کے پورے نیشنل فرنٹ اور دوردرشن کے تمام چینلس پر ہندی اور پھر انگریزی ترجمے کے ساتھ رات میں متعلقہ ریجنل نیٹ ورکس پر بھی نشر کیا گیا۔ اس سال وزیراعظم نریندر مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت نے یوم آزادی کا موضوع ’وکست بھارت‘ رکھا ہے۔ یہ نام 2047ء تک انڈیا کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے حکومتی ویژن کو ذہن نشین رکھتے ہوئے تجویز کیا گیا ہے۔ 78 ویں یوم آزادی کیلئے مرکزی حکومت نے ’ہر گھر ترنگا‘ مہم شروع کرتے ہوئے ہر ایک سے اپیل کی ہیکہ اپنے گھروں کے اندرونی حصوں میں ترنگا لہراتے ہوئے قوم کے تئیں اپنی محبت کا اظہار کریں۔ جمعرات 15 اگست کو وزیراعظم مودی پرانی دہلی کے لال قلعہ سے قومی پرچم لہرائیں گے۔ اس کے بعد یوم آزادی پریڈ منعقد کی جائے گی۔ وزیراعظم اس موقع پر لال قلعہ سے قوم کو مخاطب بھی کریں گے۔ گزشتہ سال صدر مرمو نے حکومت کے کارہائے نمایاں کو اجاگر کیا تھا اور اپنے یوم آزادی خطاب کے دوران حکام کے مختلف سنگ میل کا تذکرہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جی ڈی پی کی ٹھوس شرح ترقی ہندوستانی معیشت کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔ صدر مرمو نے کہا کہ آزادی کا یہ سالانہ جشن اس مرتبہ ملک کے زائد از 140 کروڑ شہریوں کے ساتھ اپنے اس عظیم ملک کا حصہ ہونے کی ہماری خوشی کا مظہر ہے جس طرح ہم اپنے خاندان کے ساتھ مختلف تہوار مناتے ہیں، اسی طرح ہم اپنے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کو بھی اپنی فیملی کیساتھ مناتے ہیں۔
کنبے کے ساتھ مناتے ہیں، جس کے ارکان ہمارے ملک کے تمام شہری ہیں۔
پندرہ اگست کے دن، ملک اور بیرون ملک میں تمام بھارتی شہری پرچم لہرانے کی تقریب میں حصہ لیتے ہیں، حب الوطنی کے گیت گاتے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ بچے ثقافتی پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔ جب ہم بچوں کو اپنے عظیم ملک اور بھارتی شہری ہونے پر فخر ہونے کی باتیں کرتے ہوئے سنتے ہیں تو ان کی باتوں میں ہمیں عظیم مجاہدین آزادی کے جذبات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم اس روایت کا حصہ ہیں جو مجاہدین آزادی کے خوابوں اور اْن آئندہ نسلوں کی امنگوں کو ایک کڑی میں پروتے ہیں، جو آنے والے برسوں میں ہمارے ملک کو اپنی مکمل شان پھر سے حاصل کرتے ہوئے دیکھیں گے۔
تاریخ کے اس سلسلے کی ایک کڑی ہونے کا احساس ہمارے اندر عاجزی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ یہ احساس ان دنوں کی یاد دلاتا ہے جب ہمارا ملک غیرملکی حکومت کے ماتحت تھا۔ حب الوطنی اور شجاعت سے سرشار ملک سے محبت کرنے والوں نے بہت سے خطرے اٹھائے اور عظیم قربانیاں دیں۔ ہم اْن کی اِن خوبصورت یادوں کو سلام کرتے ہیں۔ ان کی انتھک کوششوں کے دم پر بھارت کی روح صدیوں کی نیند سے جاگ اٹھی، باہم مربوط دھاروں کی شکل میں ہمیشہ سے موجود رہی ہماری مختلف روایات اور اقدار کو نسل در نسل ہمارے عظیم مجاہدین آزادی نے نیا پیرایہ اظہار بخشا۔ ایک راہنما ستارے کی طرح بابائے قوم مہاتما گاندھی نے جنگ آزادی کی مختلف روایات اور ان کے مختلف طریقے اظہار کو متحد کیا۔
ساتھ ہی سردار پٹیل، نیتاجی سبھاش چندر بوس، بابا صاحب امبیڈکر، بھگت سنگھ اور چندرشیکھر آزاد جیسے کئی عظیم عوامی قائد بھی سرگرم تھے۔ یہ ایک ملک گیر تحریک تھی جس میں سبھی برادریوں نے حصہ لیا۔ قبائلی افراد میں تلکا مانجھی، برسامنڈا، لکشمن نائک اور پھولو جھانو جیسے کئی دیگر افراد تھے جن کی قربانیوں کی مسلسل ستائش کی جا رہی ہے۔ ہم نے بھگوان برسامنڈا کے یوم پیدائش کو قبائلی یوم فخر کے طور پر منانا شروع کیا ہے۔ اگلے سال ان کے 150ویں یوم پیدائش کا جشن ہمیں قوم کے نشآ ثانیہ میں ان کے تعاون کو اور زیادہ گہرائی سے عزت بخشنے کا موقع فراہم کرے گا۔