نئی دہلی۔اپنی کپتانی کی مدت میں راہول ڈراویڈ نے سوپراسٹار پاورکا سیاہ چہرہ دیکھا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کی اننگز ا س وقت ڈکلیئرکی تھی جب سچن تندولکر 194رن پر کھیل رہے تھے ۔ تب ان کی خوب تنقید ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ اکثرکپتان کے طورپر ان کی حکمت عملیوں کو بھی دفاعی کہا جاتا تھا۔ ان کی کپتانی کی مدت میں کچھ سینئرکھلاڑیوں نے ان کی بات نہیں مانی، کچھ نے اپنے بیٹنگ مقاماتتبدیل کرنے سے منع کردیا۔آخر میں انہیں استعفی دینا پڑا حالانکہ اس سے پہلے وہ ٹیم کے افریقہ میں پہلی ٹسٹ جیت اور انگلینڈ میں سیریز جیت چکے تھے ۔ پھر بھی ان کی مدت کو نصف سمجھا جاتا ہے ۔ اب جب وہ تیار ہوگئے ہیں، تو ان کے سامنے پھر سے وہی چیلنج ہیں جو ان کی کپتانی کے دوران آئے تھے ۔
