نارائن پیٹ 15/ ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کم چیئرمین ڈی ایل ایس اے نارائن پیٹ جناب محمد عبدالرفیع نے کہا کہ ثالثی بہترین طریقہ ہے اور کسی بھی معاملے کو ثالثی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ عدالت کے احاطے میں منعقد ہونے والے قومی لوک عدالت کے پروگرام میں ڈی ایل ایس اے کے سکریٹری کم سینئر سول جج شریمتی ویندھیا نائک ، جونیئر سول جج جناب محمد عمر، ایڈیشنل جونیئر سول جج محترمہ ذکیہ سلطانہ، اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر مسٹر سریش کمار، پبلک پراسیکیوٹر مسٹر اکولا بالپا ، ایڈوکیٹ نے شرکت کی۔ اسوسی ایشن کے صدر ننداما جی، لیگل ایڈ ڈیفنس کونسل کے لکشمی پتی گوڈ اور دیگر وکلاء نے لوک عدالت میں آنے والے مختلف قسم کے مقدمات کو مفاہمت کے ذریعے حل کیا ہے۔ اس قومی لوک عدالت میں نارائن پیٹ ڈسٹرکٹ کورٹ میں 9612 معاملات کو مفاہمت کے ذریعے حل کیا گیا۔ وکلاء نے ضلع کے 14 پولیس اسٹیشنوں اور دو ایکسائز پولیس اسٹیشنوں (کوسگی اور نارائن پیٹ) کے دائرہ اختیار میں مقدمات کو حل کرنے کا کام انجام دیا ۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پرنسپل اینڈ سیشن جج نے صلح کرنے والے افراد کو ایک پودا پیش کیا اور انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کو تمام مقدمات کے تصفیے کے لیے 46,66,475 روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے۔