روایتی قیادت کے مقابلہ خدمت کا جذبہ رکھنے والے کو منتخب کرنے کا فیصلہ، خواتین میں بھی بہتر ردعمل
حیدرآباد ۔17۔نومبر (سیاست نیوز) نامپلی اسمبلی حلقہ میں انتخابی مہم عروج پر ہے اور اصل مقابلہ عوامی خدمت گزار اور مجلس کے روایتی امیدوار کے درمیان ہے۔ محمد فیروز خاں جو گزشتہ تین اسمبلی انتخابات میں نامپلی سے مقابلہ کرچکے ہیں ، اس مرتبہ ان کے حق میں ہمدردی کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ فیروز خاں کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے صرف الیکشن تک عوام سے رابطہ کو محدود نہیں کیا بلکہ شکست کے باوجود روزانہ عوام کے درمیان رہے اور ان کے دکھ درد میں ساجھیدار رہے۔ بلدی مسائل کی یکسوئی کا ان کا منفرد انداز عوام کو کافی پسند ہے۔ رائے دہندے وہ وقت بھولے نہیں جس وقت شہر کے دیگر علاقوں کی طرح نامپلی اسمبلی حلقہ میں پانی کی شدید قلت تھی ، اس وقت فیروز خاں نے اپنے ذاتی خرچ سے ٹینکرس حاصل کئے اور گھر گھر مفت پانی سربراہ کیا۔ پانی کے بارے میں ٹیلیفون موصول ہوتے ہی 30 منٹ میں ٹینکر گھر پر پہنچ جاتا تھا ۔ سرکاری محکمہ جات میں فیروز خاں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور ان کی نمائندگی پر کئی علاقوں میں صحت و صفائی کے کام انجام دیئے گئے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں نامپلی اسمبلی حلقہ کے کئی علاقے ایسے رہے جہاں عوام نے اپنے مسائل کے حل کیلئے رکن اسمبلی کے بجائے فیروز خاں سے ربط قائم کرنے کو ترجیح دی ۔ عوام کے دلوں میں فیروز خاں کے لئے محبت اور احترام کو ختم کرنے کیلئے مقامی جماعت نے سوشیل میڈیا پر مہم چھیڑ رکھی ہے۔ فیروز خاں سے منسوب بعض متنازعہ ویڈیوز وائرل کرتے ہوئے مسلم رائے دہندوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ فیروز خاں کی سرگرمیاں شریعت اور اسلام سے مختلف ہے۔ رائے دہندوں نے اس مہم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے اور حلقہ میں سخت مقابلہ کا امکان ہے۔ اسی دوران فیروز خاں نے آج نماز جمعہ کے بعد مختلف مساجد پہنچ کر مصلیوں سے ملاقات کی اور دعائیں حاصل کیں۔ فیروز خاں کی پد یاترا کے دوران جگہ جگہ استقبال کیا گیا۔ فیروز خاں کی اہلیہ لیلیٰ خاں بھی روزانہ پد یاترا کرتے ہوئے گھر گھر پہنچ کر خواتین سے ملاقات کر رہی ہیں۔ خاتون رائے دہندوں نے تیقن دیا کہ وہ اس مرتبہ روایتی قیادت کے بجائے کارکردگی کا ریکارڈ اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے فیروز خاں کو کامیاب بنائیں گے۔