نامپلی میں عوامی خدمت کا ریکارڈ رکھنے والے فیروز خاں کے حق میں ہمدردی کی لہر

   

مجلس کے مخالف پروپگنڈہ سے عوام ناراض ، کانگریس کی 6 ضمانتوں کے علاوہ دیگر اسکیمات کے وعدے
حیدرآباد ۔27۔نومبر (سیاست نیوز) سکندرآباد لوک سبھا حلقہ کے تحت نامپلی اسمبلی حلقہ پر سارے تلنگانہ کی نظریں ہیں۔ عوامی خدمات کیلئے شہرت رکھنے والے محمد فیروز خاں نے اس حلقہ سے سابق میں دو مرتبہ مقابلہ کیا اور تیسری مرتبہ وہ کانگریس کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں ہے۔ اگرچہ وہ سابق میں پی آر پی اور تلگو دیشم کے ٹکٹ پر مقابلہ کرچکے ہیں لیکن دونوں مرتبہ انہوں نے مجلسی امیدوار کی نیند حرام کردی اور معمولی ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مرتبہ کانگریس کے ٹکٹ پر فیروز خاں انتخابی میدان میں ہیں اور عوام میں ہمدردی کی لہر دیکھتے ہوئے مجلس نے مقامی رکن اسمبلی کو یاقوت پورہ منتقل کرتے ہوئے نئے امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے ۔ مجلس کو یقین تھا کہ اگر موجودہ رکن اسمبلی کو تیسری مرتبہ ٹکٹ دیا جاتا تو عوامی ناراضگی کے نتیجہ میں فیروز خاںکی کامیابی یقینی ہوجاتی۔ سابق میئر ماجد حسین کو مجلس نے امیدوار بنایا اور مجلسی قیادت نے اپنی ساری طاقت نامپلی پر جھونک دی ہے۔ صدر مجلس اسد اویسی روزانہ حلقہ کے مختلف علاقوں میں پد یاترا کے ذریعہ رائے دہندوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ مجلسی امیدوار کی مختلف سرگرمیوں کے نتیجہ میں عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے مجلسی قیادت امیدوار کے بجائے پارٹی کو ٹکٹ دینے کی درخواست کر رہی ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے روڈ شو کے بعد نامپلی میں فیروز خاں کے حق میں لہر دکھائی دے رہی ہے۔ کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار نے کل نامپلی میں پد یاترا کے ذریعہ رائے دہندوں سے ربط قائم کیا۔ شیو کمار نے عوام کو یقین دلایا کہ فیروز خاں رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد 24 گھنٹے عوام کی خدمت کے لئے دستیاب رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح کانگریس نے کرناٹک میں 5 ضمانتوں پر عمل کیا ہے ، اسی طرح تلنگانہ میں 6 ضمانتوں پر عمل کیا جائے گا۔ فیروز خاں کی انتخابی مہم کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ 5 ضمانتوں کے علاوہ اپنے ذاتی خرچ سے مختلف فلاحی پروگراموں کا وعدہ کر رہے ہیں۔ وہ گزشتہ برسوں ذاتی سرمایہ سے پانی کے بحران اور پھر کورونا وباء کے دوران حلقہ کے عوام کی غیر معمولی خدمت کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ فیروز خاں کے خلاف مجلس کے آئی ٹی سیل کی جانب سے گمراہ کن پروپگنڈہ پھیلایا جارہا ہے اور انہیں عام مسلمانوں سے دور کرنے کی سازش ہے۔ فیروز خاں سے منسوب کرتے ہوئے مختلف ویڈیوز وائرل کئے گئے لیکن ان ویڈیوز سے فیروز خاں سے زیادہ خود مجلس کو نقصان پہنچا ہے۔ نامپلی کے رائے دہندوں نے اس مرتبہ فیروز خاں کو موقع دینے کا من بنالیا ہے ۔ مجلس کی روایتی قیات نے حلقہ کی کئی بستیوں کو بری نظر انداز کردیا اور یہ غریب بستیاں سلم علاقوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ فیروز خاں کی انتخابی مہم میں نوجوانوں کی کثیر تعداد دیکھی جارہی ہے۔ اقتدار ، دولت اور سرکاری مشنری کے استعمال کے ذریعہ مجلسی امیدوار کامیابی کے امکانات تلاش کر رہے ہیں لیکن مقامی عوام کو یقین ہے کہ اس مرتبہ مجلس کا پول مینجمنٹ کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ فیروز خاں نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ رکن اسمبلی منتخب ہوتے ہی کانگریس حکومت سے نامپلی کیلئے کئی پراجکٹس کی منظوری حاصل کریں گے۔ انہیں یقین ہے کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر کابینہ میں شامل کیا جائے گا ۔