ناگرجنا ساگر ضمنی انتخاب پرامن ‘ 88 فیصد پولنگ

,

   

حیدرآباد۔ ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں آج رائے دہی کا پرسکون انعقاد عمل میں آیا ۔ صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک ووٹ ڈالے گئے ۔ جملہ 88 فیصد ووٹرس نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ ناگرجنا ساگر میں جملہ 41 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ووٹرس کی تعداد 2.2 لاکھ تھی ۔ صبح 7 بجے سے ہی پولنگ بوتھس کے باہر رائے دہندے طویل قطاروں میں جمع ہونے شروع ہوگئے تھے ۔د وپہر تک شدید دھوپ کی وجہ سے رائے دہی کے عمل میں سستی آگئی تھی تاہم بعد میں دوبارہ پھر سے پولنگ میں تیزی درج کی گئی ۔ سہ پہر تین بجے کے بعد سے رائے دہی میں تیزی آگئی تھی ۔ عام رائے دہندوں کیلئے شام 6 بجے تک ووٹ ڈالنے کی سہولت تھی جبکہ 6 بجے کے بعد کورونا متاثرین کو ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا ۔ ناگرجنا ساگر میں ٹی ار ایس سے این بھگت امیدوار ہیں جبکہ کانگریس نے سینئر لیڈر کے جانا ریڈی کو میدان میں اتارا ہے ۔ بی جے پی نے ڈاکٹر پی روی کمار نائیکم کو ٹکٹ دیا تھا ۔ تمام ہی امیدواروں نے صبح کے وقت ہی اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ تھوٹی پیٹ میں پولنگ بوتھ نمبر 137 پر تکنیکی وجوہات سے رائے دہی میں کچھ منٹ کی تاخیر ہوئی ہے ۔ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سشانک گوئل نے پائیلون کالونی کے ایک پولنگ بوتھ کا دورہ کرتے ہوئے رائے دہی کے عمل کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے کورونا احتیاط کے طور پر کئے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ کا عمل پرسکون رہا ہے اور سارے حلقہ میں کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ ضمنی انتخاب کیلئے کانگریس اور ٹی آر ایس میں سخت مقابلہ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور سبھی جماعتوں نے یہاں انتخابی مہم میں پوری شدت کے ساتھ حصہ لیا تھا اور لمحہ آخر تک بھی رائے دہندوں کو لبھانے اور ان کی تائید حاصل کرنے کی ہر جماعت کی جانب سے حتی المقدور کوششیں کی گئیں۔