ٹی آر ایس کیلئے نئی الجھن، متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کی مہم
حیدرآباد: ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کیلئے شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان کی جانب سے مقابلہ کے نتیجہ میں نئی الجھن پیدا ہوسکتی ہے۔ تلنگانہ تحریک میں جان کی قربانی دینے والے تقریباً 400 نوجوانوں کے افراد خاندان نے ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ سے بحیثیت آزاد امیدوار مقابلہ کا اعلان کیا ہے۔ ہر شہید کے گھر سے ایک فرد کو ضمنی چناؤ میں امیدوار بناتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے شہیدان تلنگانہ کے خاندانوں کو نظر انداز کرنے پر احتجاج درج کیا جائے گا ۔ گزشتہ 6 برسوں میں حکومت کی جانب سے شہیدن تلنگانہ کے پسماندگان کو کوئی امداد نہیں دی گئی جبکہ حکومت نے ہر گھر سے ایک فرد کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ شہیدان تلنگانہ کے پسماندگان پر مشتمل فورم کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کو قومی سطح تک پہنچانے ناگرجنا ساگر ضمنی الیکشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض بیروزگار نوجوانوں نے بھی وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ کے خلاف بطور احتجاج انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہیدان تلنگانہ اسوسی ایشن کے صدر رگھوما ریڈی نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ 6 برسوں میں صرف 500 خاندانوںکی مدد کی ہے جبکہ 1300 نوجوانوں نے اپنی جان قربان کی ۔ بیشتر خاندانوں کو ابھی تک 10 لاکھ روپئے کا معاوضہ ، ڈبل بیڈروم مکان اور تین ایکر اراضی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 800 خاندانوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف ناگرجنا ساگر ضمنی چناؤ میں 400 شہیدوں کے افراد خاندان مقابلہ کریں گے ۔ سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ تلنگانہ کیلئے جان کی قربانی دینے والے افراد کی تائید کریں۔ شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان پر مشتمل ایک اور فورم کے صدر نریش نائک کا کہنا ہے کہ بہت جلد انصاف کیلئے ایکشن پلان تیار کیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف یونیورسٹیز کے بیروزگار گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ نوجوان بھی ناگرجنا ساگر سے مقابلہ کرسکتے ہیں اور وہ وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر کو 58 سے بڑھاکر 61 کرنے کی مخالفت کریں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد روزگار مہیا کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔ شہیدان تلنگانہ کے 400 افراد خاندان کے انتخابی میدان میں اترنے سے ٹی آر ایس کی مشکلات میں اضافہ کا امکان ہے۔ اگر واقعی اتنی تعداد میں پرچہ جات نامزدگی داخل ہوتے ہیں تو پھر 1996 ء اسمبلی الیکشن کی یاد تازہ ہوگی جب متحدہ آندھراپردیش میں ضلع نلگنڈہ میں 537 امیدواروں نے ایک اسمبلی حلقہ کیلئے مقابلہ کیا تھا ۔ ان میں 86 خواتین شامل تھیں۔ یہ تمام آزاد امیدوار سری سیلم لیفٹ بینک کنال کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے تھے۔ 2019 ء لوک سبھا انتخابات میں ضلع نظام آباد کے ہلدی کاشتکاروں نے علحدہ ہلدی بورڈ کے قیام کا مطالبہ کرکے لوک سبھا نظام آباد کے تحت 178 پرچہ نامزدگی داخل کئے تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ٹی آر ایس شہیدان تلنگانہ کے خاندان کو مقابلہ سے روکنے کیا حکمت عملی اختیار کریگی۔