تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو پہلے ہی انتہائی دائیں بازو کی ایسی جماعتوں کو اتحادی بنا کر مشکل میں تھے جویاہو سے بھی کہیں زیادہ خراب اور براہ راست دہشت گردی کی رہی ہے، لیکن یاہو سات اکتوبر کے بعد پیدا شدہ مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے بنائی گئی جنگی کابینہ میں شامل ہونے والے اپوزیشن لیڈر بینی گینٹز کی وجہ سے بھی آسانی میں نہیں آسکے ہیں۔نتن کو بینی گینٹز کی وجہ اسرائیل کی ‘ریزرو’ فوج کے بارے میں اپنے ایک حالیہ بیان کی وضاحت کرنا پڑ گئی ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی ریزرو دستوں کے جنگ لڑنے سے بچنے کا چند مہینے پہلے موقف پیش کیا تھا اور نتن یاہو نے ماہ اکتوبر میں اس پر تنقید کی تھی۔ اسرائیل کے ان ‘ ریزرو فوجیوں ‘ نے حال ہی میں یہ موقف اپنایا تھا کہ وہ اب اپنی فوجی ڈیوٹی کے حوالے سے رپورٹ نہیں کیا کریں گے۔ گویا جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیں گے۔اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے سات اکتوبر کے حملے کی وجوہات کے حوالے سے ‘ اپنے ‘ریزرو’ فوجیوں ‘ کے اس موقف کو جائزہ لینے کا چند روز پہلے عندیہ دیا تھا کہ ان ریزرو فوجیوں کے جنگ سے بچنے اور فرار کا موقف حماس کے حملے کی حوصلہ افزائی کا موجب تو نہیں بنا۔تاہم جنگی کابینہ کے رکن بینی گینٹز نے وزیر اعظم کے اس بیان کو ناپسند کیا اور کہا کہ نتن یاہو کو یہ بیان واپس لینا چاہیے۔