۔2019ء میں بی جے پی نے شیو سینا سے بھی جھوٹا و عدہ کیا تھا ، اخبار ’’سامنا‘‘ کا اداریہ
ممبئی : بہار الیکشن کے نتائج کے تناظر میں شیو سینا نے آج ایک اہم بیان دیا جہاں انہوں نے آر جے ڈی قائد تیجسوی یادو کی زبردست تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک انتہائی حوصلہ مند لیڈر قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے این ڈی اے سے ٹکر کا مقابلہ کیا لہذا تمام نتائج آنے کے بعد اگر نتیش کمار بہار کے وزیراعلیٰ بنائے جاتے ہیں تو اس کا سہرہ شیو سینا کے سر بندھنا چاہیئے ۔ شیو سینا نے کہا کہ بی جے پی نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر نتیش کمار کو انتخابات میں کم ووٹ بھی ملتے ہیں تو اُس صورت میں بھی نتیش کمار کو ہی بہار کا وزیراعلیٰ بنایا جائے گا ۔ یاد رہے کہ ممبئی میں شیو سینا کی قیادت ادھو ٹھاکرے کرتے ہیں جو اس وقت مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ بھی ہیں ۔ پارٹی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ 2019ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے یہی وعدہ شیو سینا سے بھی کیا تھا لیکن وہ وعدہ وفا نہیں ہوسکا ۔ شیو سینا کے ترجمان اخبار ’سامنا ‘ کے اداریہ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ جے ڈی (یو) نے بہار انتخابات میں 50نشستیں بھی نہیں جاتی ہیں جب کہ بی جے پی کو زائد از 70 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کامیابی کی کم شرح کے باوجود نتیش کمار بہار کے وزیراعلیٰ کیسے بن سکتے ہیں ؟ ۔ دوسری طرف بی جے پی کے لیڈر اور ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ نتیش کمار کی پارٹی کو کم ووٹ حاصل ہونے کے باوجود انہیں ہی وزیراعلیٰ بنایا جائے گا جو 2019ء میں شیو سینا سے کئے گئے وعدہ کے مماثل ہے جس نے مہاراشٹرا میں مہابھارت چھیڑ دی تھی ۔ اداریہ میں اس بات کو ایک بار پھر دھہرایا گیا کہ نتیش کمار اگر بہار کے وزیراعلیٰ بنتے ہیں تو اس کا سہرہ شیو سینا کے سر بندھے گا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ 2019ء میں شیو سینا اور بی جے پی نے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لیا تھا لیکن مابعد انتخابات وزیراعلیٰ کے عہدے کو شیئر کرنے کے معاملے میں دونوں پارٹیوںکے درمیان سیاسی اختلافات پیدا ہونے کے بعد دونوں نے اپنے راستے الگ کرلئے ہیں ۔ اس کے بعد شیو سینا نے شردپوار کی پارٹی این سی پی اور کانگریس کے ساتھ اتحاد کر کے مہا وکاس اگھاڑی ( ایم وی اے ) کی مخلوط حکومت قائم کرلی تھی ۔ بہرحال مہاراشٹرا کی حکمراں جماعت نے آر جے ڈی قائد تیجسوی یادو کی زبردست تعریف کی جو مہا گٹھ بندھن کے وزیراعلیٰ کے عہدہ کے امیدوار تھے اور انہوں نے ووٹوں کی گنتی کے آخر تک تجسس برقرار رکھا تھا ۔
