نرمل قدیم بس اسٹانڈ میں ’’ مفت سحری ‘‘ کا انتظام

   

ماہ رمضان میں نوجوانوں کی کمیٹی کی جانب سے 14 سال سے مسافرین کی بے لوث خدمات

نرمل : ( سید جلیل ازہرکی رپورٹ ) گھڑی میں تین سوئیاں ہوتی ہیں جن میں ایک سوئی سکنڈ والی سوئی کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ سکنڈ والی سوئی اپنا وجود تو رکھتی ہے مگر اس کا ذکر نہیں کیا جاتا سب یہی کہتے ہیں دس بجکر پندرہ منٹ ہوگئے ہیں ۔ کبھی کسی نے یوں نہیں کہا دس بج کر پندرہ منٹ اور چار سکنڈ ہوئے ہیں جبکہ یہ سکنڈ والی سوئی دونوں سے زیادہ محنت و مشقت کرتی ہے اور ان دونوں کو بھی آگے بڑھنے میں مدد کرتی ہے ۔ ہماری زندگی میں بھی بہت سے لوگ اس سکنڈ والی سوئی کی مانند ہیں جن کا ذکر تو کہیں نہیں ہوتا لیکن ہمارے آگے بڑھنے میں ان کا کردار ضرور ہوتا ہے ۔ اس مثال کو قلمبند کرنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ آج بھی سماج میں ایسے نوجوانوں کی کمی نہیں جو ماہ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں اپنے گھروں سے زیادہ دوسروں کی تکلیف کا احساس کرتے ہیں چودہ برس قبل نرمل کے نوجوانوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ’’ سحر کمیٹی ‘‘ کے نام سے جو ہر ماہ رمضان میں سحری کیلئے مفت کھانے کا انتظام کرتی آرہی ہے ۔ قدیم بس اسٹانڈ میں عشاء کے ساتھ ہی نوجوان پکوان کی تیاری شروع کرواتے ہیں اور صبح کی اولین ساعتوں میں 3 بجے سے دسترخوان بچھادیا جاتا ہے ۔ حیدرآباد اور ناگپور سے آنے والی خانگی ٹورسٹ بسوں کا وقت اتفاق سے وہی ہے ۔ ان گاڑیوں کے مسافرین کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے اور چائے کا بھی نظم ہے ۔ اس کے علاوہ مقامی مساجد میں مقیم سفیروں کو بھی سحر کروایا جاتا ہے کمیٹی نے کبھی بھی تشہیر کیلئے کسی بھی میڈیا کو ناموں کے انکشاف سے پرہیز کرنے کو کہا ہے کیونکہ یہ کارخیر ہمیں اللہ دے گا ۔یہ نوجوان چودہ برس سے یہی کہہ رہے ہیں ۔ یقیناً خوشبو کو تشہیر کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس کمیٹی کو نمائندہ سیاست جلیل ازہر مبارکباد پیش کرتا ہے ۔ حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے کہ رزق سخاوت میں پوشیدہ ہے لوگ اس کو محنت میں تلاش کرتے ہیں ۔ نسل کو اس سحر کمیٹی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اگر زندگی میں کچھ پانا ہے تو طریقہ بدلو ارادہ نہیں ۔