نصف صدی قید کے بعد بے گناہی کا ثبوت اور جیل سے رہائی

   

نیویارک: ایک امریکی عدالت نے 48 برس کی قید کے بعد ایک شخص کو قتل کے الزام سے بری کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔ یہ امریکہ میں غلط طور پر دی جانے والی سزا میں اب تک کی طویل ترین قید و بند ہے۔امریکی ریاست اوکلاہوما کے ایک جج نے ایک ایسے شخص کو رہا کرنے کا حکم دیا، جو 1974 میں ہونے والے ایک قتل کے الزام میں تقریباً نصف صدی سے جیل میں قید تھے۔امریکہ میں غلط طور پر سنائی جانے والی یہ اب تک کی طویل ترین سزا ہے۔70سالہ ملزم گلین سیمنز کو جولائی میں اس وقت رہا کر دیا گیا تھا، جب ایک جج نے اس مقدمے کی از سر نو سماعت کا حکم دیا تھا۔لیکن پیر کے روز کاؤنٹی ڈسٹرکٹ کے ایک اٹارنی نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے کافی ثبوت نہیں ہیں۔اس کے بعد منگل کے روز اوکلاہوما کاؤنٹی ڈسٹرکٹ کی جج ایمی پلمبو نے اپنے ایک حکم میں سیمنز کو بے قصور قرار دے دیا۔
انہوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس عدالت کو واضح اور پختہ شواہد سے پتہ چلا ہے کہ سیمنز کو جس جرم کے لیے قصوروار ٹھہرایا گیا، سزا سنائی گئی اور قید کر دیا گیا،اس کا ارتکاب تو انہوں نے کیا ہی نہیں تھا۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق گلین سیمنز نے فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ یہ برداشت اور استقامت کا سبق ہے۔ آپ کسی کو یہ بتانے کی اجازت نہ دیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا، کیونکہ ایسا واقعی ہو سکتا ہے۔گلین سیمنز اوکلاہوما سٹی کے مضافاتی علاقے میں شراب کی ایک دکان پر ہونے والی ڈکیتی کے دوران کیرولین سو راجرز نامی ایک شخص کے قتل کے الزام میں 48 برس ایک ماہ اور 18 دن قید کی سزا کاٹی ہے۔ الزامات سے بری ہونے والے کیسز کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے نیشنل رجسٹری آف ایگزونریشنز کے مطابق اس حساب سے وہ سب سے زیادہ عرصے تک قید میں رہنے والے ایسے ملزم ہیں، جنہیں الزامات سے بری کرتے ہوئے عدالت نے بے گناہ قرار دیا ہو۔