نظام آباد: مسلم ووٹ فیصلہ کن، متحدہ حکمت عملی ضروری

   

Ferty9 Clinic

حلقہ اسمبلی اربن میں سہ رخی مقابلہ، محمد علی شبیر دونوں طبقوں میں مقبول ، یقینی کامیابی کے آثار

نظام آباد :29؍ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )نظام آباد اربن اسمبلی حلقہ سے سہ رخی مقابلہ ہے یہاں پر کانگریس ، بی جے پی ، بی آرایس کے امیدوار کے علاوہ جملہ 21 امیدوار مقابلہ کررہے ہیں لیکن اصل مقابلہ کانگریس ، بی آرایس اور بی جے پی کے درمیان ہے ۔ کانگریس کی جانب سے سینئر قائد محمد علی شبیر اور بی جے پی کی جانب سے بی جے پی کے سینئر قائد دھن پال سوریہ نارائنا ، بی آرایس کی جانب سے موجودہ رکن اسمبلی بیگالہ گنیش گپتا مقابلہ کررہے ہیں ۔ نظام آباد اربن اسمبلی حلقہ میں جملہ 2لاکھ 94 ہزار 832 ووٹرس ہے جملہ پولنگ اسٹیشن 289 ہے ان میں 143211 مرد اور 151589 خاتون رائے دہندے ہیں تو 32 دیگر ووٹرس شامل ہیں۔ کانگریس امیدوار محمد علی شبیر ایک تجربہ کار سیاستداں ہے اور یہ چار فیصد تحفظات کی فراہمی میں اہم رول ادا کیا تھا ان کی ایک علیحدہ شناخت ہے متحدہ ضلع میں نظام آباد کانگریس پارٹی صدر بھی رہ چکے تھے اور کانگریس کے دور حکومت میں دو مرتبہ اہم قلم دانوں میں فائز رہتے ہوئے ضلع کی ترقی میں کلیدی رول ادا کیا تھا جس کی وجہ سے دونوں طبقات اقلیت اور اکثریت میں ان کی ایک شناخت ہے جس کی وجہ سے دونوں طبقوں کی عوام انتخابی مہم کے دوران محمد علی شبیر کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے دیکھا گیا اور ان کے جلسوں میں عوام کی کثیر تعداد بھی دیکھی گئی ۔وہیں بی آرایس پارٹی کے امیدوار بیگالہ گنیش گپتا نظام آباد سے دو مرتبہ منتخب ہوتے ہوئے شہر کی ترقی میں اہم رول ادا کیا تھا ان کے دور میں منی ٹینک بنڈ کی تعمیر ، ڈیوائیڈرس ، سنٹرل میڈین لائٹس ، آئی ٹی ہب ، شمشان گھاٹ، قبرستانوں کی حصاربندی کیلئے فنڈس کی منظوری ، اقلیتی اقامتی مدارس کا قیام میں عمل میں لایا تھا جدید کلکٹریٹ کی تعمیر ساتھ قدیم کلکٹریٹ پر اندور کلا بھارتی کی تعمیر کے علاوہ میونسپل کارپوریشن کی جدید تعمیر ی کاموں کی انجام دہی میں اہم رول ادا کیا تھا اور اقلیتی علاقوں میں سڑکوں اور ڈرین کی تعمیر عمل میں لائی گئی وہ رکن قانون ساز کونسل کے کویتا کے ہمراہ انتخابی مہم چلاتے ہوئے رائے دہندوں سے ملاقات کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ بی آرایس اور مجلس کے درمیان اتحاد ہونے کی وجہ سے مجلسی کارپوریٹرس و قائدین نے نظام آباد اربن میں اقلیتی رائے دہندوں تک پہنچتے ہوئے بی آرایس پارٹی کو کامیاب بنانے کی خواہش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔بی جے پی کے امیدوار دوسری مرتبہ یہاں سے مقابلہ کررہے ہیں ۔ نظام آباد میں 1لاکھ 20 ہزار سے زائد رائے دہندے ہیں اور مسلم رائے دہندوں کے یکطرفہ فیصلہ اور اکثریتی طبقہ سے 30 تا 35 ووٹ حاصل ہونے کی صورت میں مسلم امیدوار کی کامیابی یقینی نظر آرہی ہے لیکن بی جے پی اپنے منصوبہ کے تحت اکثریتی علاقوں میں مہم چلاتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ بی آرایس پارٹی دونوں علاقوں میں انتخابی مہم چلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور بی آرایس پارٹی اس بات کی امید لگائی ہوئی ہے کہ ان کی اسکیمات ان کی کامیابی کی ضامن بنے گی ۔ لیکن اقلیتی ووٹ بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں اور ان کے ووٹ حاصل ہونے والوں کو ہی کامیابی یقینی ہوگی ۔