کوویڈ سے معمولی متاثرین کو گھروں میں کورنٹائن کے بجائے دواخانوں میں بھرتی کیلئے ہراسانی کی شکایت
نظام آباد :کوویڈ کی بڑھتی ہوئی وباء اور خانگی دواخانوں کی من مانی کے باعث مریضوں کو مشکلات سے گذرنا پڑرہا ہے ۔ محکمہ صحت عامہ کی جانب سے خانگی دواخانوں پر عدم نگرانی کے باعث من مانی فیس وصول کی جارہی ہے جس سے درمیانی طبقہ کی عوام کو مشکلات پیش آرہی ہے ضلع نظام آباد میں گذشتہ چند دنوں سے کرونا کی وباء شدت اختیار کرچکی ہے اور ہر روز سینکڑوں افراد سردی ، بخار، بدن درد اور دیگر شکایتوں کو لیکر خانگی دواخانوں سے رجوع ہونے کی صورت میں خانگی دواخانہ کے ڈاکٹرس مریضوں کو طرح طرح کے معائنہ کراتے ہوئے انہیں اور بھی پریشان کیا جارہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے سرکاری دواخانوں کے علاوہ چند خانگی دواخانوں کو بھی کوویڈ کا علاج کرنے کی منظوری دی ہے اور اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خانگی دواخانہ کے انتظامیہ من مانی کرتے ہوئے ہزاروں روپیوں کے ٹسٹ کرا رہے ہیں ۔ نظام آباد میں گذشتہ ایک ماہ سے تیزی کے ساتھ وباء پھیلتی جارہی ہے جس پر حکومت کی جانب سے سرکاری کے علاوہ خانگی دواخانوں میں علاج کرانے کی اجازت دینے کی وجہ سے خانگی دواخانہ کے انتظامیہ اپنی من مانی فیس وصول کررہی ہے ۔ شہر کے 9 خانگی دواخانوں میں کوویڈ کا علاج کیا جارہا ہے اور یہاں پران 9 دواخانوں میں 305 بستر دستیاب ہے اور اس کے باوجود بھی خانگی انتظامیہ کی جانب سے تعداد سے بھی زیادہ مریضوں کو بھرتی کرنے کی شکایت بھی وصول ہورہی ہے اور خانگی دواخانوں کے لیابس میں ہمیشہ عوام کا ہجوم نظر آرہا ہے اور اپنی من مانی کرتے ہوئے مریضوں سے زائد فیس وصول کیا جارہا ہے جس سے درمیانی طبقہ کی عوام کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے حالانکہ معمولی طور پر متاثر ہونے کی صورت میں انہیں کٹ فراہم کرتے ہوئے گھروں میں ہی کوارنٹائن کیا جاسکتا ہے لیکن خانگی دواخانہ کے انتظامیہ کی جانب سے انہیں ہراساں کرتے ہوئے دواخانوں میں بھرتی کرایا جارہا ہے ۔ نظام آباد کے اطراف و اکناف علاقوں اور دور دراز سے آنے والے مریضوں کے معائنے غیر مجاز طور پر کراتے ہوئے خانگی دواخانہ کے انتظامیہ زبردست ہراساں کرنے کی شکایت دن بہ دن عام ہوتی جارہی ہے اور محکمہ صحت عامہ کی خانگی دواخانوں پر نگرانی نہیں کے برابر ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی حرکتیں پیش آرہی ہے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر محکمہ صحت عامہ کے عہدیدار جنگی خطوط پر اقدامات کرنے کا عوام کی جانب سے پرُ زور مطالبہ کیا جارہا ہے۔