زرعی سیاہ قوانین کی منسوخی اور اقل ترین امداد ی قیمتوں کی ادائیگی کا مطالبہ
نظام آباد :مرکزی سیاہ قانون کے خلاف مطالبات کرتے ہوئے بائیں بازو کی جماعتیں کسان تنظیموں سے وابستہ قائدین نے کلکٹریٹ کے روبرو دھرنا دیتے ہوئے مرکزی حکومت کے فوری سیاہ قانون کو برخواست کرنے اور اقل ترین قیمتوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ۔ ضلع کسان تنظیموں سے وابستہ وی پربھاکر ، بھومیا ، پدی وینکٹ راملو ، ڈی بھاسکر ، کے گنگادھر ، سی پی آئی ، سی آئی ٹی یو نورجہاں و دیگر نے کلکٹریٹ کے روبرو دھرنا دیتے ہوئے ضلع کلکٹر نارائن ریڈی کے ذریعہ صدر جمہوریہ رام ناتھ گویند کو ایک تحریری یادداشت پیش کی ۔ 26؍ جون کو دلی کی سرحد پر کسان 7 ماہ سے مسلسل احتجاج کررہے ہیں اور زرعی پالیسیوں کیخلاف نافذ کردہ سیاہ قانون کو برخواست کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ کروڑوں ہندوستانیوں کو غذاء فراہم کرنے والے کسان کرونا وباء کی پرواہ کئے بغیر اپنے احتجاج کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ کسان کے ذریعہ ہی غذاء حاصل ہورہی ہے زرعی اجناس کی قیمت فروخت کرنے کا اختیار مرکزی حکومت نہ ہونے کے باوجود بھی 3 سیا ہ قانون کے ذریعہ قانون کو نافذ کیا گیا اور یہ دستور کے خلاف ہے اور کسانوں کے خلاف نافذ کردہ بلوں کی مخالفت کرنے کے باوجود بھی زبردستی ان پر سونپا جارہا ہے اور دستور پارلیمنٹری قوانین کیخلاف کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی سیلکٹ کمیٹی کی منظوری کے بغیر اسے پاس کیا گیا اور یہ دستور کی خالف ورزی ہے ۔ 7 ماہ سے جاری احتجاج کو نقصان پہنچانے کیلئے کئی ایک حربے اختیار کئے گئے اور سرحدوں پر رکاوٹیں پیدا کئے گئے اور سڑکوں پر کیل ٹھوکے گئے اور ان پر آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا اور ان پر کئی الزامات عائد کرتے ہوئے دہشت گرد سے جوڑنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے باوجود بھی کسان اپنے مقصد میں کامیاب ہے اور اپنے مقصد کے حل کیلئے احتجاج کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ کروڑوں ہندوستانی احتجاج کی تائید میں ہے صدر جمہوریہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فوری سیاہ قانون کو برخواست کرتے ہوئے احتجاج کو ختم کریں۔