نظام آباد ۔ خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ دو دن قبل شہر حیدرآباد میں ایک لڑکی کو 150 افراد مل کر عصمت ریزی کرنے کے واقعہ ریاست گیر سطح پر موضوع بحث ہے تو نظام آباد میں کل ایک 23 سالہ لڑکی کو 6 افراد مل کر عصمت ریزی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے 3 افراد سلسلہ وار عصمت ریزی کی اس علاقہ سے طلائی گردی میں مصروف پولیس کو دیکھ کر نوجوانوں نے راہ فرار اختیار کرلی یہ واقعہ کل رات دیر گئے نظام آباد کے کلکٹریٹ کے قریب واقع ایک قدیم عمارت کے پاس پیش آیا ۔ تفصیلات کے بموجب ایڑپلی سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی دو دن قبل سڑک حادثہ میں زخمی ہوئی تھی اور اسے شہر کے خانگی دواخانہ میں شریک کروایا گیا تھا اور اس کی بہن کل رات دیڑھ تا دو بجے کے درمیان دودھ حاصل کرنے کیلئے ریلوے اسٹیشن کے علاقہ میں واقع ہوٹل کے پاس پہنچی تو یہاں پر اس وقت وکرم اور اس کے ساتھی بھی موجود تھے وکرم اور اس کے ساتھیوں نے لڑکی سے بات چیت کی اور لڑکی نے پیسوں کی مجبوری کے بارے میں بتانے پر وکرم اور اس کے ساتھیوں نے روپئے دینے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے گئے اور کلکٹریٹ کے قریب واقع ایک قدیم عمارت میں سلسلہ وار عصمت ریزی کرنا شروع کیا اور اس وقت پولیس کی پٹرولنگ کی گاڑی یہاں پہنچی تو پولیس کی گاڑی کو دیکھ کر یہ نوجوان راہ فرار ہونا شروع ہوئے جس پر پولیس نے ان کا تعاقب کیا لیکن یہ فرار ہوگئے اور یہاں پر پہنچ کر دیکھا تو ایک لڑکی تشویشناک حالت میں پڑی ہوئی تھی جس پر پولیس نے فوری اس لڑکی کو سرکاری دواخانہ منتقل کیا اور تفصیلات حاصل کرتے ہوئے وکرم کو تحویل میں لیکر پوچھ تاچھ کرنے پر 6 افراد اس واقعہ میں ملوث تھے اور تینوں نے عصمت ریزی کی پولیس نے ان 6 افراد کو گرفتار کرتے ہوئے 2 بائیک اور 6 سیل فون برآمد کیا ۔ ایس ایچ او Iٹائون انجنیلو نے بتایا کہ پولیس اس بارے میں مزید تحقیقات کررہی ہے اور لڑکی کے علاوہ عصمت ریزی کے واقعہ میں ملوث افراد کے بھی معائنہ کئے گئے اور فارنسک لیاب کو روانہ کیا گیا ۔ پولیس Iٹائون اس خصوص میں مصروف تحقیقات ہے ۔