نظام حیدرآباد کے خلاف بنڈی سنجے کے بیانات کی مذمت

   

پرامن ماحول بگاڑنے کی کوشش، ڈائرکٹر جنرل پولیس سے کانگریس کی شکایت
حیدرآباد۔ یکم ستمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی سے شکایت کی ہے۔ پارٹی کے نائب صدر جی نرنجن نے مہیندر ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے شکایت کی کہ پرجا سنگرام یاترا کے دوران سنجے کی اشتعال انگیز تقاریر سے ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول بگڑ سکتا ہے ، لہذا پولیس کو اس سلسلہ میں چوکسی اختیار کرتے ہوئے بی جے پی صدر کو پابند کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بنڈی سنجے نے پرانے شہر حیدرآباد سے اپنی یاترا کا آغاز کرتے ہوئے کئی اشتعال انگیز جملے ادا کئے تاکہ پرانے شہر کا ماحول خراب ہو۔ ریاستی حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بی جے پی صدر کو پابند کریں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب کا مرکز ہے اور بی جے پی چاہتی ہے کہ فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرے۔ نرنجن نے نظام حیدرآباد کی جائیدادوں کو تحویل میں لینے سے متعلق سنجے کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں نے اپنی رعایا کے لئے کئی فلاحی کام انجام دیئے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی ، ہائی کورٹ اور دیگر تاریخی عمارتیں نظام آباد کی دین ہے۔ آصف سابع مذہبی رواداری پر یقین رکھتے تھے اور ان کے دور میں ہندو شخصیتوں کو اہم عہدوں پرفائز کیا گیا تھا ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1999 ء میں پرنس مفخم جاہ نے بونال جلوس کے لئے نظام ٹرسٹ کے ہاتھی کی ضرورت سے متعلق بیان اخبارات میں دیکھا ۔ انہوں نے فوری نظام ٹرسٹ کو ہدایت دی کہ ہاتھی بونال جلوس کیلئے فراہم کریں۔ اس طرح مفخم جاہ نے اپنے خاندان کی مذہبی رواداری کا ثبوت دیا ہے ۔ نظام دور حکومت میں راج بہادر وینکٹ رام ریڈی حیدرآباد کتوال تھے جبکہ راجہ کشن پرشاد اور راجہ راؤ کو ہائی کورٹ میں مقرر کیا گیا ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستان کی چین سے جنگ کے موقع پر نظام حیدرآباد نے 5000 کیلو سونا بطور عطیہ پیش کیا تھا۔ نرنجن نے بنڈی سنجے کو مشورہ دیا کہ وہ نظام حیدرآباد اور حیدرآباد کی روایتی گنگا جمنی تہذیب کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں۔ R