نظام سکندر جاہ کے فرمان پر سکندرآباد کا قیام

   

حیدرآباد ۔ 16 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : نظام سکندر جاہ کے جاری کردہ ایک فرمان پر 1806 میں اپنے نام پر سکندرآباد شہر قائم ہوا ۔ ریاست حیدرآباد میں سکندرآباد چھاونی میں تعینات برطانوی افسروں کی طرف سے حاصل کی گئی پیشرفت کے اعزاز کے لیے سابقہ برطانوی حکومت اس مقصد کے لیے 1800 میں 10 ایکر (4.0 ہیکڑ ) زمین قائم کی تھی ۔ 1896 میں 2.5 ایکڑ ( 1.0 ہیکڑ ) کے پارک میں 120 فٹ اونچا کلاک ٹاور بنایا گیا تھا ۔ ٹاور کا افتتاح یکم فروری 1897 کو ٹریور جان چیچلے پلوڈن نے کیا تھا ۔ ٹاور کی گھڑی ایک تاجر دیوان بہادر سیٹھ لکشمی نارائن رام گوپال نے عطیہ کی تھی ۔ 2003 میں ٹاور کو میونسپل کارپوریشن آف حیدرآباد کی جانب سے انہدام کی فہرست رکھا گیا تھا تاکہ بڑھتی ہوئی ٹریفک ایڈجسٹ کیا جاسکے ۔ حکومت آندھرا پردیش کی اس شہری ایجنسی کے ایک سینئیر اہلکار نے کہا کہ وہ اس ڈھانچے کو منہدم نہ کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں ۔ 2006 میں ٹاور میں موجود پارک کو اس ریجنسی نے تزئین و آرائش کے لیے چنا تھا دس ملین ( 1,20,000 امریکی ڈالر) کی لاگت سے انجام دیا گیا تھا ۔ سڑکوں کو چوڑا کرنے کے لیے پارک کا رقبہ کم کردیا گیا ۔ اس کے علاوہ ٹاور کی تزئین و آرائش کی گئی تھی ۔ پارک کو لان اور ہیجز کے ساتھ زمین کی تزئین کی گئی تھی اور ایک آبشار نصب کیا گیا تھا ۔ تزئین اور آرائش کا کام 2005 میں مکمل کرلیا گیا تھا ۔ اور پارک کا افتتاح اس دور کے چیف منسٹر آندھرا پردیش ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے سال 2006 میں کیا تھا ۔ 1969 میں علحدہ تلنگانہ ایجی ٹیشن کے دوران پہلی پولیس فائرنگ کی یاد میں پارک کے اندر ایک شہدا کی یادگار بھی قائم کی گئی تھی ۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر ٹاور کی چار گھڑیوں میں سے دو گھڑیاں تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا کام کرنا بند کردیا ۔ اس ٹاور کو حیدرآباد و سکندرآباد جڑواں شہروں میں ورثہ کا ڈھانچہ قرار دیا گیا تھا ۔ اس ٹاور جیسی جگہوں پر شہری ریجنسی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ حیدرآباد کے لیے یونیسکو ہیرٹیج کا درجہ حاصل کرنے کی تجویز کو دوبارہ زندہ رکھا گیا ۔ 2006 میں حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے سکندرآباد کے قیام کی 200 سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ کلاک ٹاور کو لوگوں کے موضوع کے طور پر چنا گیا تھا ۔ جسے ایک مقامی فرم نے ڈیزائن کیا تھا ۔ کلاک ٹاور کا خاکہ سب سے پہلے شہر کے ایک آرکیٹکچرل کالج کے طلباء نے بنایا تھا ۔ اس جنکشن کے ایک حصہ کے طور پر ڈائرکٹر منی شنکر کی 9 منٹ 30 سکنڈ کی ایک مختصر فلم ریلیز کی گئی تھی ۔ فلم جس میں شہر کے تاریخی معلومات فراہم کئے گئے تھے ۔ اس فلم میں کلاک ٹاور کو بھی دکھایا گیا تھا ۔ ٹاور میں موجود پارک نے شہریوں پر مبنی مختلف تقریبات جیسے بچوں کا فلمی میلہ ، بیداری کے پروگرام وغیرہ کو فروغ دینے کے لیے ایک مقام کے طور پر بھی کام کیا گیا ۔ کلاک ٹاور جڑواں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہیں ۔۔ ش