نظام شوگر فیاکٹری کے احیاء کیلئے حکومت سنجیدہ

   

کسانوں کو گنے کی کاشت کی ترغیب، شعور بیداری اجلاس، سدرشن ریڈی کا خطاب
نظام آباد: 5/جنوری(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام دکن شوگر فیکٹری شکرنگر بودھن کے احیاء کے لیے ریاستی حکومت سنجیدہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار ارکان اسمبلی سدرشن ریڈی ،ڈاکٹر بھوپت ریڈی، شوگر کین کمشنر ملسور نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نظام شوگر فیکٹری کے احیا ء کی نیشکر کاشتکاروں کی دیرینہ خواہش ہے اسی کے تحت نظام شوگر کو دوبارہ کھولنے کے لیے نظام آباد ضلع کے مضافاتی علاقے ایڑپلی کے خانگی فنکشن ہال میں رکن اسمبلی بودھن سد رشن ریڈی کی قیادت میں فیکٹری کے تحت دیہاتوں کے نیشکر کے کسانوں کے لیے ایک شعور بیداری اجلاس کا انعقادِ عمل میں لایا گیا ۔ارکان اسمبلی کے علاوہ کلکٹر راجیو گاندھی ہنمنتو، سابق وزیرمانڈوا وینکٹیشور رائو اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔ سال 2015 سے مختلف وجوہات کی بنا پر فیکٹری بند کر دی گئی تھی، تاہم فیکٹری کو دوبارہ کھولنے اور کریشنگ شروع کرنے کے لیے روزانہ کم از کم 3500 میٹرک ٹن گنے کے ذخائر کی ضرورت درکار ہے اور اسے ایک سال میں فیکٹری 130 دن تک چلنا پڑے گا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی سدرشن ریڈی نے نیشکر کے کسانوں کو یقین دلایا کہ اگر کاشت کو فروغ دیا جائے تو حکومت ہر طرح سے تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تقریباً 190 کروڑ روپے کے بقایا جات کی ادائیگی کر دی ہے۔ حکومت کے مشیر پوچارام سرینواس ریڈی، رکن اسمبلی بھوپتی ریڈی اور سابق وزیر مانڈوا وینکٹیشور راؤ نے کہا کہ کسانوں کو گنے کی فصل کاشت کرنی چاہیے جو روایتی فصل کے متبادل کے طور پر زیادہ منافع دیتی ہے۔ اس اجلاس میں اردو اکیڈمی چیرمین طاہر بن حمدان ایگریکلچر کمیشن کے رکن گنگادھر، کوآپریٹو یونین لمیٹڈ چیرمین مانالا موہن ریڈی، ڈی سی سی بی کے چیرمین رمیش ریڈی، آئی ڈی سی ایم ایس چیرمین تاراچند نائک، ڈسٹرکٹ لائبریری چیرمین راجی ریڈی، بودھن سب کلکٹر وکاس مہاتو، متعلقہ عہدیداروں کے علاوہ نیشکر کے کسانوں نے بڑی تعداد میں پر شرکت کی۔