نظام شوگر فیکٹری کے احیاء کے اقدامات

   

گنے کی کاشت میں اضافہ اور کسانوں کو فائدہ کی توقع
حیدرآباد۔14ستمبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے نظام شوگر فیکٹری کے احیاء کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں! ریاستی وزیر پنچایت راج مسٹر ای دیاکر راؤ نے بتایا کہ نظام شوگر فیکٹری کے احیاء کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے مذاکرات شروع کئے جاچکے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہاہے کہ کس طرح سے نظام شوگر فیکٹری کے احیاء کو یقینی بنایاجاسکتا ہے۔ مسٹر ای دیاکر راؤ نے نظام شوگر فیکٹری کے احیاء کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پام اور گنے کی کاشت میں اضافہ کے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے اسی لئے حکومت نے ساتھ ہی نظام شوگر فیکٹری کے احیاء پر بھی توجہ دینی شروع کردی ہے۔ نظام شوگر فیکٹری جسے نظام دکن شوگر لمیٹڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جسے 1937 میں آصف سابع نے بودھن میں قائم کیا تھا۔تلگو دیشم دور حکومت میں اس وقت کے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے نظام شوگر فیکٹری کو خانگیانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد کانگریس دور حکومت میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے تلگو دیشم حکومت کے اس فیصلہ پر از سرنو غور کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں کی جاسکی بعد ازاں 2015 میں نظام شوگر فیکٹری نے فیکٹری کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے سبب 55ہزار گنے کے کسان اور 306 فیکٹری کے ملازمین متاثر ہوئے تھے ۔ ریاست تلنگانہ میں نظام شوگر فیکٹری کے بند کئے جانے کے بعد سے گنے کی کاشت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ گنے کے خریداروں کی کمی کے سبب کسانوں نے کاشت میں کمی لائی ہے جس کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے نظام شوگر فیکٹری کے احیاء کی صورت میں گنے کی کاشت میں اضافہ کے علاوہ کسانوںکو فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے گنے کی اقل ترین قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے بھی اسی بنیاد پر ریاستی حکومت سے نظام شوگر فیکٹری کے احیاء کا مطالبہ کیا ہے۔M