نفرت انگیز تقاریر بل ، اظہار خیال کی آزادی پر حملہ : ہریش راؤ

   

سوال کروگے تو مقدمہ درج ، نوجوان وکلا دستور کے محافظ بنیں ، عثمانیہ یونیورسٹی میں خطاب
حیدرآباد ۔ 2 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے طلبہ کو قانون کی اہمیت ، دستور کے تحفظ اور سماجی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیا ۔ طلبہ کے زیر اہتمام ٹیگور آڈیٹوریم میں منعقدہ ’ Ducimus Welead ‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کا نام آتے ہی پرانی یادیں اور جذبات تازہ ہوجاتے ہیں اور یہاں سے وابستہ تحریکیں تاریخ کا اہم حصہ ہیں ۔ انہوں نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں جب نوجوان سافٹ ویر اور میڈیکل شعبوں کی طرف زیادہ راغب ہورہے ہیں ایسے میں قانون کا انتخاب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ کچھ مختلف اور خاص ہیں ۔ ملک کی کئی بڑی تحریکوں خاص طور پر تلنگانہ تحریک میں وکلاء ہمیشہ صف اول میں رہے ہیں اور مہاتما گاندھی ، سردار ولبھ بھائی پٹیل ، مولانا ابوالکلام آزاد اور بی آر امبیڈکر جیسے عظیم رہنما بھی وکلاء تھے جنہوں نے جدوجہد آزادی میں اہم رول ادا کیا ۔ ہریش راؤ نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے نفرت انگیز تقاریر بل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دراصل یہ بل اظہار خیال کی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش ہے ۔ اگر کوئی حکومت سے سوال کریں یا غلطیوں کی نشاندہی کریں تو اس پر مقدمہ درج کرنے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے چار ستون مقننہ ، ایگزیکٹیو ، عدلیہ اور صحافت میں عدلیہ کا کردار سب سے اہم ہے اور اظہار خیال کی آزادی جیسے حقوق امبیڈکر نے عوام کو دئیے ہیں ۔ جن کی حفاظت کرنا نوجوان وکلاء کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ڈاکٹرس کی ذمہ داری مریضوں کی جان بچانا ہے اسی طرح وکلاء کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوں اور انصاف کو یقینی بنائے ۔۔ 2