نفرت انگیز تقاریر کو روکنا ہوگا : سپریم کورٹ

   

نئی دہلی: ہریانہ کے نوح میوات تشدد کے بعد مہاپنچایت میں مسلمانوں کیخلاف بائیکاٹ کی مہم کے تعلق سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم پر سخت برہم ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ نفرت انگیز جرم اور نفرت انگیز تقریر مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ایسا میکانزم تیار کرنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ ہمیں اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ نے ایسے واقعات کو روکنے کیلئے مرکز سے تجویز طلب کی ہے۔ فی الحال سپریم کورٹ نے ریلیوں وغیرہ پر پابندی کا حکم دینے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں سے کہا ہیکہ وہ تحسین پونا والاکیس کے فیصلے کے مطابق اپنے پاس دستیاب نفرت انگیز تقریر کا مواد نوڈل آفیسر کو دیں۔ نوڈل آفیسر کمیٹی کو اس طرح کی شکایات کے ازالے کیلئے وقتاً فوقتاً ملاقات کرنی چاہیے۔ جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ ہم ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کو کہیں گے جو مختلف علاقوں کے ایس ایچ اوز سے نفرت انگیز تقاریر کی شکایات کا جائزہ لے گی۔