نفرت کی آندھی میں محبت کی شمع روشن رکھنا ہمارا اہم فریضہ:مولانا سجاد نعمانی

   

لکھنؤ: مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک مہنت نے پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں گستاخی کی ہے ، عام ہندو بھی اس سے اتفاق رائے نہیں رکھتے ۔ یہ مذہبی بیان کم اور سیاسی زیادہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کے لیے جاری ایک ریلیز میں کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں یہ تجربہ ہوا کہ عام طور پر لوگوں نے مذہبی مسائل کو نظر انداز کرکے روزگار، مہنگائی، خواتین تحفظ اور کسانوں کے مسئلوں پر اپنیغصہ کا اظہار کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ مہاراشٹرا انتخابات سے قبل ایک مہنت کے ذریعے ہندو مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کی گئی، جسے میں مذہبی رہنما نہیں مانتا۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان احتجاج کریں اور ہندو اور مسلمان آمنے سامنے آ جائیں۔ نفرت کی آندھی طوفان میں محبت کی شمع روشن رکھنا ہمارا اہم فریضہ ہے۔ مولانا نعمانی نے کہا کہ میں مہاراشٹرا کے عوام الناس سے یہ امید کرتا ہوں کہ اس سازش کا جواب غور و فکر کرکے دیں۔ کچھ وکلاء بشمول مسلمان اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو پولیس اسٹیشن جاکر اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ معاملہ خاموشی سے انجام دیا جائے ۔ ووٹ ان لوگوں کو دیں جو سماج میں فرقہ پرستی اور نفرت پھیلانے والوں کی دکانوں کو کمزور کریں اور بھارت کو مضبوط کریں۔