حیدرآباد ۔ 31 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : چونکہ سٹی بس سروسیس اور پلے ویلگو سروسیس سے تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ( ٹی ایس آر ٹی سی ) کے نقصانات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اس لیے کارپوریشن کی جانب سے سٹی بسیس اور پلے ویلگو سروسیس کی تعداد میں کمی کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور ان کی جگہ طویل فاصلہ کی سروسیس میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جارہی ہے ۔ جب کہ پلے ویلگو سروسیس دیہی عوام کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہیں ۔ دیہی عوام کی بڑی تعداد ان بسوں میں سفر کرتی ہے ۔ طویل فاصلہ کی بسوں سے آر ٹی سی کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ فی الوقت آر ٹی سی شدید مالی بحران کا شکار ہے اور جب تک وہ قرض حاصل نہ کرے آر ٹی سی ملازمین کو تنخواہیں بھی ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ اگر یہی حالات برقرار رہیں تو آر ٹی سی کو چلانا بہت مشکل ہوجائے گا ۔اس لیے آر ٹی سی نے نقصان کا باعث بننے والی اور کمزور سروسیس میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہر میں تقریبا 3600 بس سروسیس ہیں ۔ کووڈ وبا کی صورت حال سے قبل شہر میں روزانہ 35 لاکھ لوگ سٹی بسوں میں سفر کیا کرتے تھے ۔ کارپوریشن سٹی بس سروسیس میں اضافہ کرنے کے لیے دباؤ میں ہے کیوں کہ شہر کے مضافات میں نئی کالونیاں تیزی کے ساتھ وجود میں آرہی ہیں ۔ ایک طرف تو سٹی بسیں شہر والوں کے لیے ممبئی میں لوکل ٹرینس کی طرح اہم ہوگئی ہیں لیکن ڈیزل کی قیمت میں ہورہے اضافہ سے آر ٹی سی کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ میٹرو ریل کی وجہ سے بھی آر ٹی سی کی آمدنی پر کسی حد تک اثر پڑا ہے ۔ سیون ۔ سیٹر آٹو سروسیس اور جیپس سے آر ٹی سی کو خطرہ ہورہا ہے ۔ دراصل ، ان سروسیس میں خود روزگار کے نام پر دیہاتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں لوگ آر ٹی سی بس سرویس کا انتظار نہیں کررہے ہیں اور آٹو رکشا اور جیپس میں سفر کررہے ہیں ۔ اس طرح ان کی گاڑیوں کے چلن کی وجہ آر ٹی سی کی آمدنی میں کمی ہورہی ہے ۔ آر ٹی سی کا خرچ فی کلو میٹر 50 روپئے ہوتا ہے جب کہ اس کے مقابل آمدنی 28 تا 30 روپئے فی کلو میٹر ہورہی ہے ۔ ڈیزل کی قیمت میں ہورہے اضافہ نے آر ٹی سی کی کمر توڑ دی ہے ۔ کووڈ وبا سے قبل آر ٹی سی کے نقصانات سالانہ 1000 کروڑ روپئے سے متجاوز تھے لیکن جاریہ مالیاتی سال کے دوران پہلے سہ ماہی میں آر ٹی سی کو 900 کروڑ روپئے کے نقصانات ہوئے ہیں ۔ آر ٹی سی بینکس کو 3000 کروڑ روپئے کا مقروض تھا اور اسے ابھی 2500 کروڑ روپئے ادا کرنا ہے ۔ شہر کی سڑکوں پر 4.42 لاکھ آٹو رکشاس ، 1.14 لاکھ موٹر کیابس اور 31000 میکسی کیابس چل رہے ہیں ۔ اس کے باوجود ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو خود روزگار شروع کرنے کے لیے آٹوز اور کیابس منظور کئے جارہے ہیں ۔ مستقبل میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا ۔ ان حالات میں آر ٹی سی نے اس کے طویل فاصلہ کی گرودا ، سوپر لکثرری سروسیس میں اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس پلان پر عمل کرنے کے لیے آر ٹی سی کو نئی بسیس خریدنا ہوگا لیکن اس کے پاس انہیں خریدنے کے لیے پیسہ نہیں ہے حکومت کو گرانٹ جاری کرنی ہوگی یا پھر بینکس سے مزید قرض حاصل کرنے کے لیے گیارنٹی دینی ہوگی ۔ اس سے آر ٹی سی پر اضافی بوجھ ہوگا ۔ اس لیے آر ٹی سی اگر ضروری ہو تو طویل فاصلہ کی بس سروسیس کو کرایہ پر حاصل کرنے کے لیے بھی تیار ہے ۔۔