نقلی سونا اور نقلی آدھار کے ذریعہ دھوکہ دہی

   

دونوں تلگو ریاستوں میں لاکھوں روپے قرض حاصل کرنے والا ملزم گرفتار، جڑچرلہ پولیس کی کارروائی

جڑچرلہ ۔ دوسرے ریاستوں سے نقلی سونا لاکر نقلی آدھار کارڈ تیار کرکے اس کے ذریعہ پرائیویٹ لون ادارے سے دونوں ریاستوں کے الگ الگ اداروں میں لون حاصل کرتے ہوئے دھوکہ کرنے والے کو محبوب نگر ضلع جڑچرلہ پولیس نے حراست میں لے لیا اور ریمانڈ کیا۔ جڑچرلہ پولیس اسٹیشن میں اخباری نمائندوں کو محبوب نگر ڈی ایس پی سریدھر، سی آئی جڑچرلہ ویر اسوسی ایس آئی شمس الدین،، ابھیشیک ریڈی اس موقع پر موجود تھے۔ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش ریاست گنٹور ضلع تینلالی کا رہنے والا ماتنگی پرساد چند مہینوں پہلے حیدرآباد آکر اپنی زندگی گذاررہا تھا۔ وہ سابق میں ہائی کورٹ ریکارڈ اسسٹنٹ پر معمور تھا۔ برے عادات میں مبتلا ہوکر روپیہ حاصل کرنے کے لئے کئی جرائم کیا جس کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 2016 میں ایل بی نگر پولیس اسٹیشن کے حدود میں، 2019 میں پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن حدود میں نوجوانوں کو سرکاری نوکری کا جھانسا دے کر روپے وصول کیا۔ دھوکہ دہی میں جیل جاکر آیا اس دوران سکندرآباد ایک آدمی کے ذریعہ ریاست اترپردیش کے آگرہ سے نقلی سونا تیار کرنے والے طلائی اشیاء بنواکر ونود، وسکندر نامی سے دوستی کرکے نقلی سونے کو آندھرا و تلنگانہ ریاستوں میں منا پرم گولڈ کون ادارے سے دس مقامات پر قرض حاصل کیا۔ کرنول و محبوب نگر اداروں میں 11 لاکھ قرض حاصل کیا۔ اس طرح الگ الگ مقامات پر لاکھوں کا قرض پولیس کے انکوائری سے معلوم ہوا۔ کرنول میں دو اداروں میں وقار آباد، کریم نگر، سدی پیٹ۔ کھمم، چلکالوی بیٹا، پرکاشم، انتاپورم، حیدرآباد نقلی آدھار کارڈ کے ذریعہ قرض حاصل کیا۔ الگ الگ ضلعوں میں نقلی سونا رکھ کر قرض حاصل کرنے والے ماتنگی پرساد 25 جون کو محبوب نگر کے جڑچرلہ مناپرم گولڈلون ادارے کو آکر وہاں پرونکٹ رام ریڈی کے نام کا آدھار کارڈ بتاتے ہوئے نقلی سونا رکھ کر قرض حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ادارے نے کئی طرح کے سوالات کئے جن کا صحیح جواب نہ دے سکا۔ جس پر شک کی بنیاد پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس آنے کے دوران وہ شخص ملزم وہاں سے بھاگ گیا۔ جس پر مناپورم جڑچرلہ شاخ ہڈکے روی نے پولیس میں شکایت درج کی اور 2 جولائی کو حیدرآباد عطاپور میں ورپرساد کو جڑچرلہ پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اس میں ساتھ دینے والے دیگر لوگوں کو بھی جلد حراست میں لے لیا جائے گا۔ ڈی ایس پی نے اخباری نمائندوں کو یہ بات بتائی۔