نماز مقررہ وقت پر ہی ہوگی۔ کمال مولا مسجد-بھوج شالہ تنازعہ میںمخصوص اوقات میں پوجا کی اجازت
نئی دہلی ۔22؍جنوری ( ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع کمال مولا مسجد۔بھوج شالہ سے متعلق تنازعہ میں سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے نماز جمعہ پر پابندی اور بسنت پنچمی کے دن خصوصی یا دن بھر پوجا کی درخواست مسترد کر دی۔یہ سماعت ہندو فرنٹ فار جسٹس کی جانب سے دائر اس درخواست پر ہوئی جس میں بسنت پنچمی کے موقع پر صرف ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دینے اور جمعہ کی نماز کو محدود یا موخر کرنے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پوجا کی رسومات طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ادا کی جانی چاہئیں اور اس صورت میں نماز جمعہ شام کے وقت کرائی جا سکتی ہے۔ جواب میں مسجد کمیٹی کے سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ جمعہ کی نماز کا وقت مذہبی طور پر مقرر اور غیر متبدل ہے جو دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم فریق کم سے کم وقت میں نماز ادا کر کے احاطہ خالی کرنے کیلئے تیار ہے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ یا توسیع کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس بات کو ریکارڈ پر لیا کہ 7 اپریل 2003 کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے جاری حکم نامہ ہی اس مقام پر مذہبی سرگرمیوں کیلئے بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اسی حکم کے تحت ہندو فریق کو ہر منگل اور بسنت پنچمی کے دن پوجا کی اجازت ہے جبکہ مسلم فریق کو ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔عدالت نے ہندو فریق کی دن بھر پوجا کی مانگ قبول نہیں کی اور یہ بھی واضح کیا کہ نماز جمعہ کے مقررہ وقت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ عدالت کے حکم کے مطابق بسنت پنچمی کے دن ہندو فریق طلوعِ آفتاب سے دوپہر 12 بجے تک اپنی روایتی رسومات ادا کرے گا جبکہ مسلم فریق کیلئے نماز جمعہ کا وقت بدستور ایک بجے سے تین بجے تک رہے گا۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ احاطہ کے اندر بیریکیڈنگ کر کے دونوں فریقوں کیلئے علیحدہ جگہ مختص کی جائے جبکہ داخلے اور خارجی راستوں کے انتظامات اس طرح کیے جائیں کہ کسی قسم کی کشیدگی یا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ عدالت نے مسلم فریق سے نمازیوں کی متوقع تعداد پیشگی فراہم کرنے کو بھی کہا تاکہ انتظامیہ مناسب حفاظتی اقدامات کر سکے۔عدالت نے دونوں فریقوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی احترام، رواداری اور تعاون کا مظاہرہ کریں اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن برقرار رکھیں۔ کسی فریق کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ہوگی۔