سرکاری ہاسپٹلس میں وینٹی لیٹرس و ایم آر آئی آلات میں اضافہ، ہیلت کارڈ کیلئے جلد ٹنڈرس، اسمبلی میں وزیر صحت کا جواب
حیدرآباد ۔5 ۔ جنوری (سیاست نیوز) وزیر صحت دامودر راج نرسمہا نے کہا کہ سرکاری ہاسپٹلس میں ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی قلت دور کرنے کیلئے حکومت نے عنقریب 850 جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس میں 850 جائیدادوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ ان جائیدادوں میں ڈاکٹرس اور دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کی جائیدادیں شامل ہیں۔ تلنگانہ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کے سامبا سیوا راؤ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ گورنمنٹ ہاسپٹلس میں مزید 490 وینٹی لیٹرس اور 9 ایم آر آئی مشینوں کے اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے سرکاری دواخانوں میں وینٹی لیٹرس کی تعداد 1790 ہے۔ حکومت بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کے مقصد سے مزید 490 وینٹی لیٹرس حاصل کرے گا۔ گاندھی ، عثمانیہ ، ایم جے ایم اور دیگر ہاسپٹلس کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہاسپٹلس میں وینٹی لیٹرس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نمس کی گنجائش میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خانگی ہاسپٹلس سے زیادہ وینٹی لیٹرس نمس میں دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمس کے لئے مزید 125 وینٹی لیٹرس کا انتظام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 گورنمنٹ ہاسپٹلس میں ایم آر آئی آلات فراہم کئے جائیں گے ۔ گزشتہ سال 2013 نئی ایمبولنس گاڑیاں حاصل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں 16 نئے ڈائیلاسیس سنٹر قائم کئے گئے۔ ٹریفک حادثات کے متاثرین کی فوری طبی امداد کیلئے ہر 25 کیلو میٹر پر ٹراما اور ڈائیلاسیس سنٹر کے قیام کا منصوبہ ہے ۔ مریض کو 20 منٹ میں ڈائیلاسیس سنٹر منتقل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بستی دواخانوں میں بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کو حکومت نے منظوری دی ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ عثمانیہ اور گاندھی میں طبی آلات میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2026 تک 60 کروڑ کی لاگت سے 8 نئے سٹی اسکیان مشین حاصل کئے جارہے ہیں۔ ایم ایم جے ہاسپٹل میں کینسر کے مریضوں کو ریڈیشن تھراپی کیلئے 32 کروڑ سے مشین حاصل کی گئی۔ نمس میں 18 کروڑ کے آلات تنصیب کے لئے تیار ہیں۔ وزیر صحت نے بتایا کہ غریبوں کیلئے ہیلت کارڈ کی اجرائی کے سلسلہ میں جلد ہی ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ کوئی بھی غریب اور مستحق خاندان ہیلت کارڈ سے محروم نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آروگیہ شری کے تحت علاج کی حد کو 5 لاکھ سے بڑھاکر 10 لاکھ کیا گیا۔1