نوح فساد میں 6 افراد ہلاک، 116 گرفتار: حکومت ہریانہ

,

   

چنڈی گڑھ: ہریانہ کے چیف منسٹر منوہر لال کھٹر نے چہارشنبہ کو کہا کہ نوح ، میوات میں تشدد کی وجہ سے 6 لوگوں کی موت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں 116 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں ہوم گارڈ کے دو جوان اور چار عام شہری شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہریانہ پولیس کی 30 کمپنیاں اور مرکزی نیم فوجی دستوں کی 20 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ان میں سے 14 کمپنیاں ضلع نوح میں تعینات کی گئی ہیں جہاں آج کوئی نیا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ تشدد کے مرتکب افراد کی جلد ہی شناخت کر لی جائے گی۔ ریاستی وزیر داخلہ انل وج نے میڈیا کو بتایا کہ حالات قابو میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک 41 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔ صرف نوح میں ہی 116 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔دریں اثنا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے تشدد پر چیف منسٹر کھٹر سے بات کی۔ مسلم اکثریتی ضلع نوح میں دو فرقوں کے درمیان تشدد کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ پولیس نے بتایا وشوا ہندو پریشد کی برج منڈل جل ابھیشیک یاترا کھیڑلا موڑ کے قریب پہنچی تو تشدد بھڑک اٹھا۔ کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ پہلے اشتعال انگیز پوسٹ کیا گیا تھا، اور مسلم طبقے کو شرمناک گالیاں دی گئی تھیں۔ فسادیوں نے وہاں پہنچنے کے بعد نوک جھونک ہوئی، پھر یہ نوک جھونک توڑ پھوڑ میں بد ل گئی، جس میں پولیس کی کچھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچاہے۔ اس کے بعد منگل کو گروگرام کے بادشاہ پور علاقے میں دکانوں کو آگ لگا دی گئی،نیز گڑگاؤں کے انجمن مسجد کے نائب امام حافظ سعد کوسفاکانہ طریقے سے چھریوں اور سلاخوں سے حملہ کرکے شہید کردیاگیا ، نیز مسجد کو آگ لگادی گئی۔ شہید حافظ سعد کی تجہیز و تکفین ان کے آبائی گاؤں سیتامڑھی، بہار میں ہزاروں سوگواروں کی اشکبار آنکھوں کے درمیان ادا