نوٹ برائے ووٹ معاملہ دوبارہ تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع

   

سپریم کورٹ نے ریونت ریڈی کی درخواست کی سماعت نہیں کی
حیدرآباد۔/3 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی سے متعلق نوٹ برائے ووٹ مقدمہ دوبارہ تلنگانہ ہائی کورٹ پہنچ چکا ہے۔ ریونت ریڈی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مقدمہ کے 5 گواہوں کو ایک ہی مرتبہ کراس ایگزامنیشن کرنے کیلئے موقع فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ اس سے قبل ہائی کورٹ کو فیصلہ کی ہدایت دیتے ہوئے احکامات جاری کئے گئے لہذا اس معاملہ میں سپریم کورٹ میں مزید سماعت کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملہ میں قطعی فیصلہ کرنے کا اختیار ہائی کورٹ کے تحت ہے لہذا جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ایس وی ایس بھٹی پر مشتمل بنچ نے سماعت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے نوٹ برائے ووٹ معاملہ پھر ایک مرتبہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاملہ میں خصوصی عدالت نے تمام گواہوں کو علحدہ علحدہ کراس ایگزامنیشن کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ ریونت ریڈی کی جانب سے تمام گواہوں کو ایک ساتھ کراس ایگزامنیشن سے متعلق درخواست کو خصوصی عدالت نے مسترد کردیا تھا۔ ریونت ریڈی نے خصوصی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس پر ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلہ کی تائید کی جس کے خلاف ریونت ریڈی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔ سپریم کورٹ نے مئی 2021 میں اس معاملہ کی سماعت کی تھی اور 28 مئی 2021 کو جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریا کانت پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کو اندرون پانچ ہفتے فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ٹرائیل کورٹ کو ہدایت دی تھی کہ قطعی فیصلہ تک گواہوں کا کراس ایگزامنیشن نہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود ہائی کورٹ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا جس پر ریونت ریڈی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ایس وی ایس بھٹی پر مشتمل بنچ نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔