نپاہ وائرس کے ہندوستان سے باہر پھیلنے کا خطرہ کم ہے: ڈبلیو ایچ او

   

جنیوا ۔ 30 جنوری (ایجنسیز) ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جمعہ کو کہا کہ مہلک نپاہ وائرس کے ہندوستان سے باہر پھیلنے کا خطرہ کم ہے اور مزید کہا کہ اس نے جنوبی ایشیائی ملک کی طرف سے صرف دو افراد کے متاثر ہونے کی اطلاع پر سفر یا تجارتی پابندیوں کی سفارش نہیں کی۔ہانگ کانگ، ملائیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویتنام ان ایشیائی مقامات میں شامل ہیں جنہوں نے وائرس کے پھیلاؤ سے حفاظت کیلئے اس ہفتے ایئرپورٹ سکریننگ سخت کر دی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا خیال ہیکہ ان دو کیسوں سے انفیکشن کے مزید پھیلنے کا خطرہ کم ہے۔ ہندوستان میں ایسی وباء پر قابو پانے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاحال انسان سے انسان کو وائرس کی منتقلی میں اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ نیز کہا کہ اس نے ہندوستان میں صحت کے حکام سے رابطہ کیا ہے۔لیکن اس نے وائرس سے مزید لوگوں کے متاثر ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا جو ہندوستان اور ہمسایہ بنگلہ دیش کے بعض علاقوں میں چمگادڑوں کی آبادی میں گردش کرتا ہے۔
پھل کھانے والے چمگادڑوں اور خنزیر جیسے جانوروں کے ذریعے بھیلنے والا وائرس بخار اور دماغ کی سوزش کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کی شرح اموات 40 سے 75 فیصد تک ہے جس کا کوئی علاج نہیں اگرچہ ویکسین کی آزمائش بدستور جاری ہے۔یہ متاثرہ چمگادڑوں یا ان کے آلودہ کردہ پھلوں سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔
لیکن ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہونا آسان نہیں ہے کیونکہ اس کیلئے عام طور پر متاثرہ افراد کے ساتھ طویل رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔مختصر پھیلاؤ غیر معمولی نہیں ہیں اور ماہر وائرولوجسٹ کہتے ہیں کہ عام آبادی کیلئے خطرہ کم ہے۔