نکاح کو آسان بنائیں، مسلم پرسنل لا بورڈ کی تاکید

   

پرتعیش شادی تقریبات سماج کیلئے نقصاندہ
ذی اثر افراد کو اصلاح معاشرہ کیلئے آگے آنا چاہئے
اصلاح معاشرہ کمیٹی کے آن لائن سیشن سے مولانا رابع ندوی کا خطاب

لکھنؤ : ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ سماج کے ایک اہم مسئلہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پرتعیش شادی تقریبات کی سخت مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا ہیکہ نکاح کو آسان اور سادہ بنائیں۔ صدر مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا رابع حسنی ندوی نے سکریٹری مولانا عمرین محفوظ کی سربراہی والی اصلاح معاشرہ کمیٹی کے زیراہتمام گزشتہ روز منعقدہ ایک آن لائن سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے مسلم گھرانوں کی اکثریت کا یہ عمل بدبختانہ ہیکہ وہ شادی کو سہل، سادہ اور آسان بنانے کے بجائے اسے مشکل سے مشکل تر بنارہے ہیں۔ پرتعیش تقریبات کیلئے قرضے لئے جارہے ہیں حالانکہ شریعت میں نکاح کو سادہ اور مثالی بنانے پر زور دیا گیاہے۔ جمعیتہ العلماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ سماج میں موجود ذی اثر افراد کا کام ہیکہ وہ پرتعیش تقریبات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور سب سے پہلے خود نمونہ بنیں۔ بورڈ کے معتمد عمومی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ علماء اور خواتین کو ایسی تقریبات کا بائیکاٹ کردینا چاہئے جہاں دولت کا بدترین استعمال ہو اور اغیار کیلئے اسلام کی غلط تصویر ابھرتی ہو۔ بورڈ کے قومی ترجمان مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ مسلمانوں کو اس طرح کی تقریبات پر بے دریغ خرچ کرنے کے بجائے اس رقم کو تعلیم، انسداد غربت اور صحت کیلئے خرچ کرنا چاہئے۔ زکوٰۃ فاونڈیشن آف انڈیا کے ظفرمحمود نے کہا کہ نکاح کی تقریب کے انعقاد سے قبل فریقین میں ایسا معاہدہ ہونا چاہئے کہ بارات یا شادی تقریب میں شرکاء کی تعداد کم سے کم رکھی جائے گی۔ بورڈ ممبر ایس کیو آر الیاس نے کہا کہ جو مسلمان نکاح کو سادہ تقریب بنانے کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی من مانی کرتی ہیں ، امت کے بااثر گوشوں کو ان کے خلاف مناسب کارروائی پر غور کرنا چاہئے۔ مولانا رابع ندوی نے کہا کہ شادی یا نکاح انسانی سماج کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ہے ، جسے اسلام نے سہل بنانے پر زور دیا ہے۔