نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھا اور اس کا ’بھومی پوجن‘ بھی کیا۔ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے بحران کے اس وقت میں حکومت کے اس اقدام پر سخت تنقید کی۔کانگریس نے اس قدم کو ’ آخری رسومات کے وقت ڈی جے بجانے‘ جیسا قرار دیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ ملک میں مختلف اداروں کا ’ڈی ویلیویشن‘ ہو رہا ہے۔ کانگریس ترجمان جے ویر شیرگل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ بے دردی، بے حسی اور بے شرمی سے بھرا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک معاشی بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ بی جے پی لوگوں کو راحت دینے کی جگہ فالتو کا جلوس نکال رہی ہے۔‘‘کانگریس ترجمان نے مزید کہا کہ ایک طرف سیاہ زرعی قوانین کے ذریعہ بی جے پی نے کسانوں کی روزی روٹی پر بلڈوزر چلا دیا تو دوسری طرف وہ عوام کا پیسہ عمارت تعمیر پر خرچ کر رہی ہے، جس کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن وہ ایسا اپنی انا کو مطمئن کرنے کیلئے کر رہی ہے۔‘‘ جے ویر شیرگل نے مزید کہا کہ سنٹرل وِسٹا پروجیکٹ کے تحت نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی بنیاد رکھنے کا کام ’کسانوں سے روٹی چھیننے کے بعد کیک کی دکان کھولنے‘ جیسا ہے۔