یروشلم: کئی ماہ قبل ہزاروں اسرائیلیوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا فرزند یائر ایک بار پھر منظر عام پر آیا ہے۔لیکن اس بار یائر نیتن یاھو نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے جس میں اس نے اسٹیٹ کنٹرولر کی طرف سے گذشتہ 7 اکتوبر کو حماس کے 11 اسرائیلی فوجی اڈوں اور 22 بستیوں پر حملے کی ناکامیوں کی تحقیقات کو روکنے کے حوالے سے جاری کیا ہے۔ اس نے اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت پر “بائیں بازو کو فائدہ پہنچانے اور سات اکتوبر کے واقعات پر پردہ ڈالنے کا الزام لگایا‘‘۔32 سالہ یائر نے حماس کے حملے روکنے میں ناکامی پر فوج اور داخلی سلامتی کے ادارے’شین بیت‘ پر غداری کا الزام بھی لگایا۔ اس نے اپنے’ایکس‘ اکاؤنٹ پر تبصرے میں لکھا کہ “وہ کیا چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اگر کوئی غداری نہیں ہے تو وہ بیرونی اور آزاد گروپوں کی تفتیش سے کیوں ڈرتے ہیں؟”۔انہوں نے مزید کہا کہ “فوج اور انٹیلی جنس رہ نما یہ دعویٰ کیوں کرتے رہتے ہیں کہ 7 اکتوبر کو فضائیہ کہاں تھی؟” انہوں نے اپنے والد کی حکومت کے مخالفین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “انٹرنیشنل کمیشن آف انکوائری کے باوجود سپریم کورٹ کے جج عدالت کو بائیں بازو کے لیے ایک کور اپ کمیٹی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں”۔