کانگریس ڈاکٹرس سیل کا اعلان ، غریبوں کو علاج سے محروم کرنے کا الزام
حیدرآباد۔یکم اگست (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے نیشنل میڈیکل کمیشن بل کے خلاف میڈیکل طلبہ کے احتجاج کی تائید کا اعلان کیا۔ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹرس سیل کے نائب صدر کے ستیہ نارائنا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے غیر جمہوری انداز میں نیشنل میڈیکل کمیشن بل کو منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے ذریعہ میڈیکل کونسل آف انڈیا کو ختم کیا جارہا ہے جو تعلیم کے شعبہ کے لئے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے بہتر علاج کے لئے عصری ادویات کی حوصلہ افزائی کے بجائے مرکزی حکومت یوگا گرو کی جانب سے دی گئی ادویات کو فروغ دے رہی ہے۔ اس بل کے ذریعہ غریبوں کو علاج کی سہولتیں مزید کم ہوجائیں گی ۔ کمیشن کا قیام غریب اور متوسط طبقات کو بہتر علاج کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ستیہ نارائنا نے کہا کہ مرکزی حکومت 50 فیصد نشستیں خانگی میڈیکل کالجس کو حوالے کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس فیصلہ کے نتیجہ میں غریب طلبہ کا بھاری نقصان ہوگا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ صرف دولتمند افراد کے لئے میڈیکل تعلیم کی سہولت باقی رہے تو پھر غریب طلبہ کہاں جائیں گے۔ انہوں نے غریبوں کو علاج کی سہولتوں سے محروم کرنے والے اس بل کی ٹی آر ایس کی جانب سے تائید کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ٹی آر ایس حکومت مرکز کے ہر فیصلہ کی تائید کر رہی ہے۔ نیشنل میڈیکل کمیشن کا قیام کارپوریٹ اداروں سے ملی بھگت کے لئے عمل میں آرہا ہے ۔ تلنگانہ میں سرکاری دواخانوں میں غریبوں کو علاج کی سہولتیں پہلے ہی میسر نہیں ہے۔ دواخانوں میں بنیادی سہولتوں کا کوئی انتظام نہیں۔ ادویات کی کمی کے سبب عوام خانگی ہاسپٹل سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں۔ حکومت کی جانب سے فنڈس کی عدم اجرائی نے ہاسپٹلس کی حالت کو مزید ابتر بنادیا ہے۔ ایسے میں نئے بل کی منظوری سے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ ہوگا۔ کانگریس پارٹی میڈیکل طلبہ کے احتجاج کی مکمل تائید کرتی ہے۔