نیلوفر ہاسپٹل کی حالت زار

   

24 گھنٹوں میں 3 نونہالوں کی موت و انتظامیہ کی بے حِسی
حیدرآباد۔/7 ستمبر، ( سیاست نیوز ) حیدرآباد کا مشہور نیلوفر ہاسپٹل جو خواتین اور نومولود کے علاج کیلئے ریاست بھر میں مشہور و معروف ہے لیکن آج ڈاکٹرس اور اسٹاف کی لاپرواہی کی زندہ مثال بن گیا ہے جہاں پر صرف 24 گھنٹوں میں 3 نونہال پیدائش کے فوری بعد ڈاکٹرس کی لاپرواہی کے باعث موت کی آغوش میں چلے گئے۔ کورونا وباء کے پیش نظر عوام کی ایک کثیر تعداد محض سرکاری ہاسپٹل تصور کرتے ہوئے رجوع ہوتی ہے لیکن انتظامیہ کی بدسلوکی اور ڈاکٹرس کی بے حسی کے باعث شہر کا یہ نامور ہاسپٹل غریب عوام کیلئے بجائے رحمت کے زحمت ثابت ہوکر رہ گیا ہے۔ خصوصاً انتظامیہ کا مسلم خواتین کے ساتھ سلوک امتیازی رہا ہے بلکہ برقعہ پوش خواتین کے ساتھ ہاسپٹل اسٹاف و ڈاکٹرس کی جانبداری کے واقعات و ناروا سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔ غریب عوام خصوصاً معاشی طور پر پسماندہ ہزاروں خواتین نہ صرف زچگی بلکہ اطفال کے علاج معالجہ کیلئے اس ہاسپٹل سے رجوع ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے دن بہ دن اس ہاسپٹل کی حالت زار، ڈاکٹرس کی بے حسی اور لاپرواہی کے باعث کئی معصوم موت کی آغوش میں چلے جارہے ہیں۔ ہاسپٹل کے سیکوریٹی عملہ کا مریضوں کے ساتھ نہ صرف بدسلوکی بلکہ گالی گلوج روز کا معمول بن گیا ۔ اس سے پہلے کہ حالات مزید سنگین و ابتر ہوجائیں محکمہ صحت کو نہ صرف اس صورتحال کی فکر کرنی ضروری ہے بلکہ اس کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت ہے ۔ شہر میں اس وقت موسمی بخار اور بارش کے باعث کئی بچے متاثر ہورہے ہیں جن کی طبی نگہداشت جنگی پیمانہ پر ضروری ہے۔ ماہرین کی رائے کو دیکھتے ہوئے کورونا کی تیسری لہر کے امکانات خصوصاً کمسن بچوں پر اس کے ہونے والے اثرات کے پیش نظر اس ہاسپٹل کے انتظامیہ کو فوری طور پر اپنے رویہ کو تبدیل کرنا ہوگا ورنہ شہر کا یہ مشہور ہاسپٹل معصوم اور نومولودوں کی جائے ولادت کے بجائے جائے اموات بن کر رہ جائے گا۔