l ہمیں اس نکتہ پر زور دینا ہے کہ ہم اس حملہ کو کیوں نہیں روک سکے اور
ایک فرد واحد نے یہ کام کیسے کیا؟ جسنڈا آرڈن
l رائل کمیشن پولیس، انٹلیجنس، کسٹمز اور امیگریشن کی کارکردگی پر نظر رکھنے کا ذمہ دار
ویلنگٹن ۔ 25 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نیوزی لینڈ جسنڈا آرڈن نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کیا پولیس اور انٹلیجنس سرویسیس اس حملے کو روک سکتے تھے؟ یاد رہیکہ 15 مارچ کو نماز جمعہ کے وقت کئے گئے قتل عام میں 50 مسلمان شہید ہوگئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے قوانین کے مطابق انتہائی طاقتور عدالتی تحقیقات جسے رائل کمیشن کہا جاتا ہے، فی الحال تحقیقات کیلئے دستیاب ہے اور شاید اس نوعیت کے کمیشن کی ضرورت ہے جو یہ معلوم کرسکے کہ ایک اکیلا آدمی کس طرح اپنی بندوق سے اندھادھند فائرنگ کرتے ہوئے 50 مسلمانوں کو شہید کرسکتا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیقات اسی نکتہ پر مرکوز ہوگی کہ آخر ہم اس حملہ کو روکنے میں کیوں ناکام رہے جس کیلئے نیوزی لینڈ کی جاسوسی ایجنسی کو بھی تنقیدوں کا سامنا ہے۔ اس سانحہ نے پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا جبکہ جاسوسی ایجنسیاں (چاہے وہ دنیا میں کسی بھی ملک کی ہوں) اسلامی انتہاء پسندی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے لیکن عین ان کی ناک کے نیچے ایک شخص آتا ہے اور ایک دو نہیں بلکہ 50 مسلمانوں کو شہید کرکے چلا جاتا ہے۔ تو کیا اسے بھی اسلامی انتہاء پسندی کہا جائے گا؟ شہید ہونے والے تمام مسلمان تھے جبکہ قتل عام کرنے والا ایک سفید فام عیسائی تھا جس کا اس بات پر ایقان ہے کہ مسلمان مغربی ممالک میں ’’دراندازی‘‘ کررہے ہیں۔ جسنڈا آرڈن نے کہا کہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ ہمیں اس قتل عام کی سازش کا علم کیونکر نہ ہوسکا۔ نیوزی لینڈ ایک ایسا ملک ہے جس کے بارے میں ہر ایک کا یہی خیال ہیکہ یہ امن کا گہوارہ ہے اور مختلف تہذیبوں کا مرکز ہے۔ نیوزی لینڈ کبھی بھی ایسا ملک نہیں رہا کہ اس پر ’’خصوصی نظر‘‘ رکھی جائے۔ بات چیت کے دوران آرڈن نے اس بات کی تردید کی کہ 28 سالہ حملہ آور برنیٹن ٹیرنیٹ کو سزائے موت دیتے ہوئے نیوزی لینڈ میں سزائے موت کا احیاء کیا جارہا ہے۔ برنیٹن ٹیرنیٹ کو حملہ کے فوری بعد گرفتار کرلیا گیا تھا اور اس پر قتل عام کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ رائل کمیشن کی مزید تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں جو انٹلیجنس، پولیس، کسٹمز، امیگریشن اور دیگر حکومت سے مربوط ایجنسیوں کی کارکردگی کا احاطہ کرے گا۔ حملہ آور نے اپنے اس گھناؤنے اور نفرت انگیز جرم کو آن لائن راست طور پر دکھایا تھا جبکہ نیوزی لینڈ نے قتل عام کے ویڈیو فوٹیج کو قابل اعتراض مواد کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے اسے حذف کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ آرڈن کو صدر ترکی رجب طیب اردغان سے بھی شکایت ہیکہ جس ویڈیو فوٹیج کو نیوزی لینڈ نے غیرقانونی اور قابل اعتراض قرار دیا ہے، اردغان اس فوٹیج کو اپنی انتخابی ریالیوں میں دکھارہے ہیں۔
