آکلینڈ ۔ 30 جنوری (سید مجیب) نیوزی لینڈ نے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی اور اس تجویز سے انکار کردینے والے ممالک کی ایک مختصر فہرست میں شامل ہو گیا۔ وزیرخارجہ ونسٹن پیٹرز نے ایک بیان میں کہا کہ نیوزی لینڈ اپنی موجودہ شکل میں بورڈ میں شامل نہیں ہو گا لیکن پیش رفت کی نگرانی جاری رکھے گا۔ نیز یہ بھی کہا کہ متعدد ریاستوں نے بالخصوس اس خطے سے ورڈ کے کردار میں شرکت کیلئے قدم بڑھایا ہے لیکن نیوزی لینڈ اس میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔ جیسا کہ کئی ریاستوں نے اس تجویز پر بدگمانی کا اظہار کیا ہے لیکن صرف چند ممالک بشمول فرانس، ناروے اور کروشیا نے ہی واضح طور پر دعوت کو مسترد کیا ہے۔پیٹرز نے وزیرِ اعظم کرسٹوفر لکسن اور نائب وزیرِ اعظم ڈیوڈ سیمور کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا۔ویلنگٹن نے بورڈ کا خیال مکمل طور پر مسترد نہیں کیا لیکن اس کے اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر دوبارہ زور دیا۔ پیٹرز نے کہاکہ ہمارے نزدیک غزہ میں بورڈ آف پیس کا کردار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے اختیارات کے مطابق انجام پانا چاہئے۔ نیز کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ایک سرکردہ بانی اور دیرینہ حامی کے طور پر یہ ضروری ہے کہ بورڈ کا کام اقوامِ متحدہ کے منشور کی تکمیل کرے اور اس کے مطابق ہو۔ یہ ایک نیا ادارہ ہے اور ہمیں ابھی اور آئندہ اس پر اور اس کے دائرہ کار سے متعلق باتوں اور دیگر معاملات پر وضاحت کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں اپنے ’’بورڈ آف پیس‘‘ اقدام کا آغاز کیا۔
اس کے بانی منشور پر دستخط کرنے کیلئے سٹیج پر ان کے ہمراہ 19 ممالک کے رہنماؤں اور حکام نے شرکت کی۔